تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 183
تاریخ احمدیت جلد ۴ 175 خلافت ثانیہ کا دی "حقیقتہ النبوة " بھی بھیجوائیں۔حضور کا حضور کا یہ خط " ریویو" ف ریلیجز "اردو مئی ۱۹۱۵ء ( صفحه ۱۹۹ تا ۲۰۶) میں چھپا ہوا ہے۔جون ۱۹۱۵ء کو سید نا حضرت حضرت صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ کا نکاح مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دختر نیک اختر صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت حجتہ اللہ محمد علی خاں صاحب کے فرزند ارجمند حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سے ہوا - خطبہ نکاح حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے پندرہ ہزار روپیہ مہر پر سوا سات بجے شام مسجد اقصیٰ میں پڑھا۔آپ اس تقریب سعید پر لاہور سے بلوائے گئے تھے۔حضرت ام المومنین نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اس رشتہ کی بابت خواب دیکھا تھا - ۲/ فروری ۱۹۱۷ء کو نہایت سادگی کے ماحول میں رخصتانہ عمل میں آیا۔چنانچہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کا بیان ہے کہ "میری شادی کے روز شام کو حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے بلا بھیجا۔چونکہ حضرت والد صاحب ابھی برات کے طریق کو اپنی تحقیقات میں اسلامی طریق نہیں سمجھتے تھے۔اس لئے شہر پہنچا ہی تھا کہ آپ نے واپس بلا بھیجا۔اور میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے واپس چلا گیا۔اور بعد میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ہمشیرہ بو زینب بیگم صاحبہ دامن کو دار المسیح سے دار السلام لے گئیں " - ۲۳-۲۴ / فروری کو کو حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے دعوت ولیمہ دی۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے بطن مبارک سے یہ اولاد ہوئی۔طیبہ آمنہ بیگم صاحبہ (ولادت ۱۸ / مارچ ۱۹۱۹ ء ) نواب میاں عباس احمد خان صاحب ولادت ۲ جوان ۱۹۲۰ء) طاہرہ بیگم صاحبه (ولادت ۳/ جون ۱۹۲۱ باز کیہ بیگم صاحبہ (ولادت ۲۳/ نومبر ۱۹۲۳ء) قدسیہ بیگم صاحبہ (ولادت ۲۰/ جون ۱۹۲۷ء) شاہدہ بیگم صاحبہ (ولادت ۳۱ / اکتوبر ۱۹۳۴ء) میاں شاہد احمد خان صاحب (ولادت ۱۰/ اکتوبر ۱۹۳۵ء) فوزیہ بیگم صاحبہ (دراوت ۲۲ نومبر ۱۹۴۱ء) میاں مصطفی احمد خان صاحب (ولادت ۱۰/ جولائی ۱۹۴۳ء) سفر لاہور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی مع اہل بیت ۷ / جولائی ۱۹۱۵ء کولا ہور تشریف لے گئے اور ۱۲ / جولائی ۱۹۱۵ء کو رونق افروز قاریان ہوئے 110 جولائی ۱۹۱۵ء کو بعد نماز مغرب میاں معراج الدین صاحب کے احاطہ میں حضور کا معرکتہ الآراء لیکچر ہوا۔یہ لیکچر جو بعد کو (۲۶ صفحات میں " پیغام مسیح کے نام سے چھپ بھی گیا۔یہ ایک نہایت ہی محمدہ و پسندیدہ لیکچر تھا جس کی عمدگی کالاہور کے غیر مسلموں نے تین اقرار کیا۔