تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 182 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 182

تاریخ احمدیت جلد ۴ "1 174 خلافت ثانیه کار و سرا سال مطالعہ ہے ہم اس کا صرف ایک اقتباس بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں۔نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت ا کی ہتک کرتے ہیں۔اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد ال کے لئے ہے وہ کیا جانے کہ محمد ا کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔وہ میری جان ہے میرا دل ہے۔میری مراد ہے۔میرا مطلوب ہے اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بیچ ہے وہ خدا تعالی کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔وہ اللہ تعالی کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے که بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں اس میں آنحضرت ا کی ہتک ہے " اس کتاب کے مطالعہ سے بہتوں پر حقیقت نبوت منکشف ہو گئی اور کئی اصحاب کو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے یا بیعت خلافت کی سعادت حاصل ہوئی - " چند غلط فہمیوں کا ازالہ " حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے "حقیقتہ النبوۃ " کی اشاعت کے بعد ہی ا/ مارچ ۱۹۱۵ء کو مسئلہ نبوت ہی سے متعلق سولہ صفحات کا ایک پمفلٹ بھی شائع فرمایا۔جس میں مولوی محمد علی صاحب کی چند غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا گیا ہے۔et ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب ایک غیراحمدی دوست نے اپنے ایک خط میں پانچ سوالات پیش کئے اور درخواست کی کہ خود آپ کی طرف سے ان کا جواب دیا جائے۔چنانچہ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب " کے عنوان سے حضور نے ایک مفصل مضمون لکھا جو پمفلٹ کی شکل میں بھی شائع کر دیا گیا - ایک فرمانروائے ریاست کو تبلیغ حضور نے ایک فرمانروائے ریاست کو تبلیغی خط لکھا تھا۔جس پر اس نے دریافت کیا کہ حضرت مرزا صاحب کا مقام کیا تھا؟ اس اہم سوال کے جواب میں حضور نے مفصل خط لکھنے کے علاوہ " تحفۃ الملوک" اور