تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 181 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 181

تاریخ احمدیت جلد ۴ 173 خلافت ثانیه کار و سرا سال شریف دینا شروع کیا۔یہ درس ایک خاص رنگ اور امتیازی شان رکھتا تھا۔ارشادات نبوی کی ظلمتیں اور باریک در بار یک معارف و نکات ایسے پاکیزه و پسندیدہ و دل نشین و روح افزا انداز میں بیان فرماتے کہ سننے والوں کے دل آنحضرت ﷺ کی عظمت و محبت سے معمور ہو جاتے اور ہر شخص یہی چاہتا کہ آپ بولتے رہیں اور میں سنتا رہوں درس کے دوران ربودگی اور وجد کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔آپ کا ایک ایک لفظ محبت رسول میں ڈوبا ہوا ہوتا اور ایک ایک بات سے درد و سوز ٹپکتا تھا۔خصوصاً آنحضرت ا کا نام مبارک زبان پر آتے ہی آپ پر رقت طاری ہو جاتی اور آواز بھرا جاتی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے تھے۔آپ درس حدیث کے دوران میں آنحضرت ﷺ کو حضور کے مختلف ناموں اور مختلف تصبوں سے یاد فرمایا کرتے تھے اور حضور کا جو نام یا لقب آپ کی زبان سے نکلتا تھا وہ اس جوش اخلاص و محبت میں نکھتا تھا کہ سننے والوں کے دل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے خاص کر رسول مقبول" کے الفاظ تو اس رنگ میں آپ کی زبان سے نکلتے کہ گویا دلوں پر نقش ہو جاتے اور پھر حضرت رسول مقبول (فداہ ابی و امی و روحی و جستانی) کا ذکر مبارک اس جذبہ سے فرماتے کہ ہر سننے والا محسوس کرنا کہ گویا میں آنحضرت ﷺ کی پاک مجلس میں بیٹھا ہوا اپنے کانوں سے احادیث رسول سن رہا ہوں۔قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک دفعہ تحریر فرمایا۔”درس تدریس کا بھی حضرت میر صاحب کو بے حد شوق بلکہ عشق تھا ان کا حدیث کا درس اب تک سننے والوں کے کانوں میں گونج پیدا کر کے ان کے دلوں کو گرما رہا ہے۔اور ان کی نگاہیں اس ذوق و شوق اور محبت سے درس دینے والے کو بے تابی سے ڈھونڈتی ہیں مگر نہیں پاتیں "۔در اصل حدیث شریف حضرت میر صاحب کی غذائے روح اور راحت جان تھی۔جس کے بغیر آپ کو تسکین ہی نہ ہوتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ بے شمار علمی و عملی مصروفیات کے باوجود آپ نے اپنی وفات تک (جو ۱۷ مارچ ۱۹۴۴ء کو ہوئی) باقاعدہ درس جاری رکھا اور حتی الوسع کبھی ناغہ نہیں ہونے دیا۔" حقیقۃ النبوة“ کی تالیف حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تالیف منیت مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کا جواب ہے جس کا نام انہوں نے "القول الفصل کی ایک غلطی کا اظہار " رکھا تھا۔حضور نے یہ معرکتہ الآراء کتاب جو تقریباً تین سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے میں روز کے اندر اندر تالیف فرما کر مارچ ۱۹۱۵ ء میں شائع فرما دی جس میں مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعود کے تمام پہلوؤں پر نہایت جامعیت سے بڑی سیر کن اور تسلی بخش بحث کی گئی ہے۔اس موضوع پر اسے حرف آخر کا رتبہ حاصل ہے۔اس کا فقرہ فقرہ بلکہ لفظ لفظ لا ئق