تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 177 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 177

تاریخ احمدیت جلد ۴ 169 خلافت ثانیه کاری سرا سال ان دو بعثوں کا ماننا بھی فرض ہے۔لیکن باوجود اس کے ہم کہتے ہیں کہ کل اپنے اصل سے جدا نہیں ہوتا اور اس میں جو کچھ ہے اصل کا ہی ہے لیکن ہم ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کر سکتے۔جن سے حضرت مسیح (موعود) کی ہتک ہو جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کل کیا شے ہے کل کو تو نعوذ باللہ جوتیاں مارنی جائز ہیں عزت تو اصل انسان کی ہوتی ہے نہ اس کے سائے کی۔ان لوگوں نے کل کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔جو شخص تصویر کا نقص نکالتا ہے۔وہ دراصل اس انسان کا نقص نکالتا ہے جس کی وہ تصویر ہے میں نے اس پر اس مضمون پر بحث کی ہے "۔احمدیہ دار التبلیغ ماریشس خلافت ثانیہ کے دوسرے سال جماعت احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن ماریشس میں قائم کیا گیا۔اور اس کی تحریک خود ماریشس سے ہوئی اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ (روزال) ماریشس میں ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر نور محمد نور دیا صاحب فرانسیسی زبان میں ایک اخبار دی اسلامزم " شائع کرتے تھے اور لور پول میں ایک معزز انگریز مسٹر عبد اللہ کو علم کی ادارت میں ایک اسلامی اخبار "دی کر لینٹ " نکلتا تھا یہ دونوں اخبارات تبادلہ میں ایک دوسرے کو پہنچتے تھے۔”دی کرلینٹ " کے پرچوں میں "اسلامزم " کا ذکر پڑھ کر ایڈیٹر "رسالہ ریویو آف ریلیجر " نے نور محمد صاحب کو اپنے رسالہ کے چند پرچے بھیجے اس طرح ۱۹۰۵ء میں احمدیت کا با قاعدہ پیغام اس جزیرہ تک پہنچا (جو دنیا کا کنارہ کہلاتا ہے ) نور محمد صاحب نے بڑی تحقیقات کے بعد ۱۹۱۲ء میں احمدیت قبول کرلی اور کھلے طور پر احمدیت کا پیغام پہنچانے لگے۔ان کے ذریعہ سے ماسٹر حاجی عظیم سلطان غوث صاحب آف فونکس بھی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور آخر دم تک جماعتی خدمات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔۱۹۱۳ ء میں قصبہ فونکس (Phonencs) کے مسجد کے امام جناب سبحان محمد صاحب نے بھی احمدی ہونے کا اعلان کر دیا جس پر مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی اور ان کو قتل کرنے کے منصوبے ہونے لگے مگر سبحان محمد صاحب بہت زور سے تبلیغ میں مصروف رہے۔۱۹۱۴ء میں ہندوستان کی ایک فوجی پلٹن ماریشس پہنچی جس میں چار احمدی بھی تھے۔جن کے نام یہ ہیں۔ڈاکٹر لعل محمد صاحب - اسمعیل صاحب ، عبد المجید صاحب - منظور علی صاحب جناب سبحان محمد صاحب اکثر ان احمدیوں سے ملاقات کے لئے چھاؤنی کو جایا کرتے تھے اور وہ بھی گاہے بگاہے ان کے ہاں آجاتے اسی دوران میں کئی لوگ احمدیت کی طرف مائل ہونے لگے۔اس مرحلہ پر ان لوگوں کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک انگریزی دان مبلغ بھیجے جانے کی درخواست آئی۔اس درخواست پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی نظر انتخاب حضرت صوفی حافظ غلام محمد صاحب بی۔اے پر پڑی۔حضرت صوفی صاحب ۲۰/ فروری ۱۹۱۵ء کو قادیان سے