تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 167
جلد ۴ 159 خلافت عثمانیہ کا پہلا سال بے سود ثابت ہو ئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ گورنمنٹ برطانیہ اور سلطان ٹرکی کے درمیان اعلان جنگ ہو گیا۔جہاں تک مجھے علم ہے ہندوستان کے مسلمانوں نے عام طور پر لڑکی کے شرکت جنگ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا تمام شیعوں کو اس موقع پر پیش نظر رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی مذہبی لڑائی نہیں ہے اور نہ ہمارے مذہب میں آج کل جہار جائز ہے اور نہ شیعہ سلطان کو امیر المومنین مانتے ہیں اور نہ وہ ہمارے دینی بادشاہ ہیں اور نہ ان کا کوئی فعل ہمارے لئے قابل تقلید ہے۔گورنمنٹ انگریزی کی سلطنت تمام مذاہب خصوصاً شیعوں کے لئے سایہ رحمت ہے اور جو آزادی اس فرقہ کو اس سلطنت میں ہے وہ دنیا کی کسی سلطنت میں میسر نہیں ہے۔یہاں تک کہ سلطنت ایران میں (بھی) جو شیعہ سلطنت ہے۔ہم کو وہ حقوق حاصل نہیں جو آج ہندوستان میں بمقابلہ دیگر مذاہب کے حاصل ہیں۔لہذا اس نازک موقع پر تمام مسلمانوں خصوصاً شیعوں کو گورنمنٹ انگریزی کی وفاداری اور خیر خواہی پر اسی طرح ثابت قدم رہنا چاہئے۔جس طرح کہ اب تک وہ قائم ہیں" اسی طرح ڈاکٹر سر محمد اقبال نے دہلی کی جنگی کا نفرنس کے لئے ایک مسدس لکھی جس کے نو بند te تھے۔بطور نمونہ تین بند ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔یہ نظم یو نیو ر سٹی ہال لاہور میں پڑھی گئی۔اے تاجدار خطہ جنت نشان ہند روشن تجلیوں سے ترکی خاوران ہند محکم ترے قلم نظام جہان ہند تیغ جگر شگاف تری پاسبان ہند ہنگامہ ونا میں مرا سر قبول اہل وفا کی نذر محتقر قبول ہو ہو اخلاص بے غرض ہے صداقت بھی بے غرض خدمت بھی بے غرض ہے اطاعت بھی بے غرض عہد وفا و مهر و محبت بھی بے غرض تخت منشی سے عقیدت بھی بے غرض لیکن خیال فطرت انسان ضرور ہے ہندوستاں لطف نمایاں ضرور ہے جب تک فروغ لالہ احمد لباس ہے تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے جب تک چمن کی جلوہ گل پر اساس ہے جب تک نسیم صبح عنادل کو راس ہے جب قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح ۱۲۰۵ دیتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح 2 اگر چہ جماعت احمد یہ اپنے محدود ذرائع اور قلت تعداد کے لحاظ سے دوسرے مسلمانوں کے مقابل میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی تھی تاہم اس نے بھی اپنی بساط کے مطابق اپنا فرض ادا کرنے میں