تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 165 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 165

تاریخ احمد بیت۔جلد ۴ 144] 157 ۱۹۸ خلافت ماشیہ کا پہلا سال بھاگ کر ہالینڈ چلا گیا۔جرمنی کی نئی حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے اور جرمنی کے نمائندوں نے 11 نومبر ۱۹۱۸ء کو دن کے گیارہ بجے مارشل فاش کی ریل گاڑی کے ڈبہ میں عارضی صلح کی شرطوں پر دستخط کر دیئے اس طرح چار سال کی خونریز اور تباہ کن جنگ بند ہو گئی۔جس کے نتیجہ میں ایک کروڑ کے قریب آدمی ہلاک اور اتنے ہی مجروح ہو چکے تھے اور دنیا نے امن کا سانس لیا۔اور جیسا کہ ہم تاریخ احمد بیت کی دوسری جلد نیا ایڈیشن میں ذکر کر چکے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ پیشگوئی پوری شان کے ساتھ پوری ہو گئی جو حضور نے اس عالمگیر زلزلہ اور تباہ کن جنگ سے برسوں پہلے ۱۹۰۵ء میں شائع فرمائی تھی۔اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس عالمگیر جنگ کی جو دنیا میں زلزلہ پیدا کرنے والی تھی صرف خبری دینے پر بس نہیں فرمایا بلکہ اس محیر العقول بات کا علم بھی دے دیا تھا کہ وہ جنگ میرے موعود فرزند کے زمانہ میں ہو گی۔چنانچہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔" خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارے سلسلہ میں بھی سخت تفرقہ پڑے گا۔اور فتنہ انداز اور ہوا و ہوس کے بندے جدا ہو جائیں گے۔پھر خد اتعالیٰ اس تفرقہ کو مٹادے گا۔باقی جو کٹنے کے لائق اور راستی سے تعلق نہیں رکھتے اور فتنہ پرداز ہیں وہ کٹ جائیں گے۔اور دنیا میں ایک حشر برپا ہو گا وہ اول المحشر ہو گا اور تمام بادشاہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے اور ایسا کشت و خون ہو گا کہ زمین خون سے بھر جائے گی اور ہر ایک بادشاہ کی رعایا بھی آپس میں خوفناک لڑائی کرے گی ایک عالمگیر تباہی آوے گی اور تمام واقعات کا مرکز ملک شام ہو گا۔صاحبزادہ صاحب ( خاکسار را قم کو فرمایا ) اس وقت میرالڑ کا موعود ہو گا۔خدا نے اس کے ساتھ ان حالات کو مقدر کر رکھا ہے۔ان واقعات کے بعد سلسلہ کو ترقی ہوگی اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تم اس موعود کو پہچان لینا یہ ایک بہت بڑا نشان پسر موعود کی شناخت کا ہے "۔انگریزی مملکت کی رعایا ہونے کی پہلی عالمگیر جنگ مسلمانان ہند اور جماعت احمدیہ وجہ سے مسلمانان ہند نے اتحادیوں کا ساتھ دیا۔اور ہزاروں مسلمانوں نے فوج میں شامل ہو کر شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھائے۔خصوصاً ہندوستان کی سب سے بڑی اسلامی ریاست حیدر آباد نے انگریزوں کی امداد و اعانت میں اپنی پوری قوت صرف کر دی چنانچہ مولوی سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے اپنی کتاب "دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ " میں لکھا ہے کہ اعلیٰ حضرت میر عثمان علی خاں بہادر مسند آرائے سلطنت ہوئے آپ کے زمام امو ر ہاتھ میں لینے کے تین ہی سال بعد وہ جنگ عظیم برپا ہوئی کہ جس میں انگریزی