تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 150 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 150

تاریخ احمد بیست - جلد ۴ 142 خلافت میانیہ کا پہلا سال الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ہی مصلح موعود ہیں اس کے بعد حضرت امیر المومنین بیت الدعاء میں دعا کرنے کے بعد تشریف لائے اور پونے نو بجے سے سوا گیارہ بجے تک ایک پُر معارف خطاب فرمایا۔(اس کا مفصل ذکر آگے آرہا ہے) نماز ظہر کے بعد حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امرد ہوی کی صدارت میں دو سرا اجلاس ہوا جس میں مندرجہ ذیل قرار دادیں پاس ہو ئیں۔| ICA (۱) ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کے لئے واعظ بھجوائے جائیں۔اور ان کے اخراجات صدرانجمن کی مد اشاعت اسلام سے دیئے جائیں۔(۲) صدر انجمن احمدیہ کا قاعدہ نمبر ۱۸ یہ تھا کہ " ہر معاملہ میں مجلس معتمدین اور اس کے ماتحت مجلس یا مجالس اگر کوئی ہوں اور صدرانجمن احمد یہ اور اس کی کل شاخہائے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم قطعی اور ناطق ہو گا "۔دوسری قرار داد میں پاس ہوا کہ اس میں ترمیم کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بجائے حضرت خلیفتہ الصحیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی کے الفاظ درج کئے جائیں۔نیز قرار پایا کہ یہ ریزولیوشن حضرت نواب محمد علی خان صاحب ، حضرت سید محمد احسن صاحب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ذریعہ سے پیش ہو۔بعد میں بیرونی جماعتوں کے قریباً چوتھائی اصحاب نے بھی اس کی پر زور تائید کی اور اپنے دستخطوں سے درخواستیں بھجوائیں کہ انجمن بھی اسے منظور کرے۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ نے ۲/ اپریل ۱۹۱۴ء کے اجلاس میں کثرت رائے سے اس ترمیم کی منظوری دے دی۔۱۵۰-۱۳۹ (۳) ہر ضلع میں سے چند طلباء مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پانے کے لئے بھیجے جائیں۔(۴) واعظین کا خرچ براہ راست انجمن معتمدین کے ذریعہ سے دیا جائے نہ کہ بیرونی جماعتوں کے ہاتھ سے۔(۵) زکوۃ کی وصولی کے لئے جماعت کے سیکرٹری اصحاب نصاب کی فہرست مرتب کریں اور وصولی کی فکر کریں۔اس مد کار و پیه نیز اشاعت اسلام کا روپیه حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں براہ راست آنا چاہئے۔(۲) تعلیم عامہ کی اشاعت کے لئے جہاں جہاں ممکن ہو مدارس اور احمد یہ ہوسٹل کھولے جائیں اس سلسلہ میں حتی الوسع سرکاری امداد قبول نہ کی جائے۔