تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 149 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 149

تاریخ احمدیت جلد ۴ 141 خلافت ثانیہ کا پہلا سال حصہ ایک مسلک میں منسلک ہو گیا۔تو آپ نے ایک دوسرے اعلان کے ذریعہ سے احباب کو اطلاع دی کہ وہ اپنے چندے حسب دستور براہ راست صد را مجمن احمدیہ کو بھیج سکتے ہیں۔خلافت ثانیہ کے عمد میں صدرانجمن احمدیہ کا پہلا اجلاس / اپریل ۱۹۱۳ء کو ۱۰ عهد خلافت ثانیه میں صدر انجمن احمدیہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔صدارت کے فرائض حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے انجام دیئے۔دوسرے شامل ہونے والے ممبروں کے نام یہ ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت نواب محمد علی خان صاحب ، حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب امروہوی ، حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ، حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب جناب شیخ رحمت اللہ صاحب، جناب مولوی صدرالدین صاحب (سیکرٹری مجلس) اس اجلاس میں مختلف نوعیت کے بتیس معاملات پیش ہوئے جن میں سے بعض اہم امور کا ذکر کیا جاتا ہے۔(۱) جناب مولوی محمد علی صاحب افسر اشاعت اسلام کی رپورٹ پر ترجمتہ القرآن کے ٹائپ کئے ہوئے مسودہ کو اصل سے مقابلہ کرنے کے لئے اسٹنٹ مینیجر اشاعت اسلام کو دفتر میگزین سے فارغ کیا گیا اور اس کی جگہ ایک نئے محرر کی منظوری دی گئی (۲) ایک انگریز نومسلم ( شیخ عبدالرحمن ) کے لئے جو ان دنوں قادیان میں تھا، وظیفہ مقرر کیا گیا۔(۳) نئے وصایا کے ٹیفکیٹ جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔(۴) حضرت مولوی شیر علی صاحب نے از خود ولایت جانے کے لئے چھٹی کی درخواست دے رکھی تھی جو منظور ہو چکی تھی مگر مرکزی ضرورت کے پیش نظر کثرت رائے سے ان کی رخصت منسوخ کر دی گئی اور فیصلہ ہوا کہ انجمن کا کوئی ریزولیوشن نہیں ہے جس میں اس نے مولوی شیر علی صاحب کو ولایت جانے کے لئے حکم دیا ہو۔یہ ان کا پرائیویٹ معاملہ ہے اسی اجلاس میں حضرت خلیفۃ ایج اول مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کی بیماری کے اخراجات کی بھی منظوری ہوئی اور آپ کے اہل بیت IT اور دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کے لئے وظائف مقرر ہوئے۔DAND عہد خلافت ثانیہ کی پہلی شوری ۱۲/ اپریل ۱۹۱۴ء کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی کے ارشاد پر تبلیغ و اشاعت اسلام کے معاملہ پر غور کرنے کے لئے مسجد مبارک میں ملک بھر کے احمدی نمائندوں کی مجلس شوری ہوئی۔باہر سے شامل ہوتے والے نمائندوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد تھی۔منتظم خلیفہ رشید الدین صاحب تھے۔سات بجے صبح شوری کا پہلا اجلاس شروع ہوا پہلے میر قاسم علی صاحب نے پیر منظور محمد صاحب کا ایک مضمون (جو تشعید الا زبان مئی ۱۹۱۴ء میں بھی شائع ہو گیا ہے ) سنایا جس میں ثابت کیا گیا تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح