تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 148
تاریخ احمدیت جلد ۴ 140 خلافت ثانیہ کا پہلا سال اس کے علاوہ مذکورہ بالا اشتہار میں حضور نے اللہ مظفرہ منصور ہونے کی الہامی بشارت تعالی سے الہانا خبر پا کر مخالفوں کے مقابلہ میں اپنے کامیاب و کامران ہونے کا اعلان بھی فرمایا۔جیسا کہ فرماتے ہیں۔فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہو گا۔تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہو گئے اور اس کے فضل کی بارشیں انشاء اللہ تعالٰی تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم میران ہو جاؤ گے۔میں جب اس فتنہ سے گھبرایا اور اپنے رب کے حضور میں گرا تو اس نے میرے قلب پر یہ مصرعہ نازل فرمایا۔ع شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعل ہے بدل" اتنے میں مجھے ایک شخص نے جگادیا اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔مگر پھر مجھے غنودگی آئی اور میں اس غنودگی میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ اس کا دوسرا مصرعہ ہے۔"کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسرا مصرعہ الہامی تھا یا بطور تفہیم تھا۔پھر کل بھی میں نے اپنے رب کے حضور میں نہایت گھبرا کر شکایت کی کہ مولیٰ میں ان غلط بیانیوں کا کیا جواب دوں۔جو میرے برخلاف کی جاتی ہیں اور عرض کی کہ ہر ایک بات حضور ہی کے اختیار میں ہے۔اگر آپ چاہیں تو اس فتنہ کو دور کر سکتے ہیں تو مجھے ایک جماعت کی نسبت بتایا گیا کہ یمز قنهم یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ضرور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلا ہیں لیکن انجام بخیر ہو گا۔مگر یہ شرط ہے کہ تم اپنی دعاؤں میں کو تاہی نہ کرو۔حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ بعض " بڑے چھوٹے کئے جائیں گے اور چھوٹے بڑے کئے جائیں گے"۔پس خدا کے حضور میں گر جاؤ تاکہ تم ان چھوٹوں میں داخل کئے جاؤ جنہوں نے بڑا ہوتا ہے"۔بہت سے احباب خطوط کے ذریعے پوچھتے تھے کہ انجمن کو چندہ بھیجیں یا ایک ضروری اعلان نہیں؟ حضور نے ان کی اطلاع کے لئے اپریل ۱۹۱۴ء کے پہلے ہفتہ میں اعلان فرمایا کہ چندے برابر صدر انجمن میں آنے چاہئیں۔ہاں چونکہ ابھی تک مجھے اطمینان نہیں کہ انجمن اس موجودہ فتنہ میں کیا حصہ لے گی۔اس لئے مناسب خیال کرتا ہوں کہ انجمن کے سب چندے میری معرفت ارسال ہوں میں انہیں خزانہ انجمن داخل کر کے انجمن کی رسید بھجوادوں گا۔دوسری بات آپ نے یہ لکھی کہ آئندہ انجمن کے چندوں کے علاوہ کوئی چندہ آپ اس وقت تک نہ دیں جب تک کہ میری طرف سے اجازت شائع نہ ہو۔یہ تجویز ایک رڈیا کی بناء پر تھی جو آپ نے ۱۸ مارچ ۱۹۰۷ء کو دیکھی تھی۔اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دست مبارک سے لکھ لی تھی۔چند ماہ بعد جب جماعت کا اکثر