تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 147 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 147

تاریخ احمد بیت۔جلد ۴ 139 خلافت ثانیہ کا پہلا سال کے لئے جن بزرگوں نے تبلیغی جہاد کیا ان میں حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت میر محمد اسحق صاحب اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل سر فہرست ہیں۔چنانچہ سید نا حضرت امام ہمام ایده اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم - میر محمد الحق صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم ان میں سے ایک (یعنی حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب) کتابوں کے حوالے یاد رکھنے کی وجہ سے اور باقی دو اپنے مباحثوں کی وجہ سے جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے یاد ہے اس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد الحق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔حالانکہ چند مہینے پہلے حضرت خلیفہ اول ان کی زندگی میں انہیں کوئی خاص عزت حاصل نہیں تھی۔میر محمد الحق صاحب کو تو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور حافظ روشن علی صاحب کو جماعتوں کے جلسوں پر آنے جانے لگ گئے تھے۔مگر لوگ زیادہ تریبی سمجھتے تھے کہ ایک نوجوان ہے جسے دین کا شوق ہے اور وہ تقریروں میں مشق پیدا کرنے کے لئے آجاتا ہے۔مگر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد چند دنوں میں ہی انہیں خدا تعالیٰ نے وہ عزت اور رعب بخشا کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ ان کے بغیر اب کوئی جلسہ کامیاب ہی نہیں ہو سکتا " - ۱۹۱۴ء کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے ۰ ۲۱ / مارچ مو جبکہ قیام خلافت پر صرف ایک ہی ہفتہ گزرا تھا۔آپ نے روح القدس کی تائید سے ایک زبر دست اشتہار جس کا عنوان تھا۔”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔شائع فرمایا۔یہ بارہ صفحوں کا اشتہار کیا تھا گویا صور اسرافیل تھا جس کی آواز نے مردہ دلوں میں زندگی کی ایک نئی روح پھونک دی۔جماعتوں کی طرف سے بیعت کے تاروں اور خطوط کا تانتا لگ گیا۔اس اشتہار میں منکرین خلافت کے اہم اعتراضوں اور وسوسوں کی حقیقت اچھی طرح کھول دی گئی تھی۔سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جارہا تھا کہ آپ نے ایک بہت بڑی سازش کے ذریعہ خلافت حاصل کی ہے۔حضور نے اس کے جواب میں حلفا لکھا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنادے یہ اس کا اپنا فضل ہے یہ میری درخواست نہ تھی۔میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے بسپرد کیا گیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جھکا دیں۔۔۔میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اسے کیونکر پسند آ گیا۔لیکن جو کچھ بھی ہو اس نے مجھے پسند کر لیا۔اور اب کوئی انسان اس کر تہ کو مجھ سے نہیں اتار سکتا۔جو اس نے مجھے پہنایا ہے "۔