تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 143 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 143

تاریخ احمدیت جلد ۴ 135 خلافت ثانیہ کا پہلا ۱۷ مارچ ۱۹۱۴ء کا دن اس لحاظ سے نہایت مبارک ہے کہ اس روز حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے درس القرآن کا آغاز فرمایا۔یہ درس جو مسجد اقصیٰ میں ہوتا تھا۔سورہ مجادلہ سے شروع ہوا اور ۸/ اپریل ۱۹۱۴ء میں الفضل میں بالاقساط چھپنے لگا۔اور پھر " حقائق القرآن" کے نام سے کتابی صورت میں بھی شائع ہو گیا اس درس کے بعد حضور نے سورہ فاتحہ سے درس دینا شروع کیا۔جس کا ایک مکمل دور جون ۱۹۳۰ء میں ختم ہوا۔اس کے علاوہ حضور نے بیرونی احباب کے لئے بعض خاص درس بھی ارشاد فرمائے۔مثلاً (۱) جون ۱۹۱۷ ء میں قرآن کریم کے ابتدائی دس پاروں کا درس دیا۔یہ درس ظہر سے عصر تک ہو تا تھا۔۲۲ جون کو شروع ہوا اور ایک ماہ تک جاری رہا۔(۲) یکم اگست ۱۹۲۲ء کو دوبارہ ابتدائی دس پاروں کا درس شروع فرمایا جو مہینہ بھر جاری رہا یہ درس بھی ظہر سے مغرب تک ہو تا تھا درس میں شامل ہونے والوں کے نام رجسٹر میں باقاعدہ درج ہوتے تھے۔اور روزانہ ان کی حاضری ہوتی تھی درس قلمبند کرنے والے مجلین کہلاتے تھے۔(۳) ۱۹۲۸ء میں حضور نے سورہ یونس سے سورہ کہف تک کا درس دیا۔اس کا آغاز ۸/ اگست کو ہوا اور انتقام ۱۸ ستمبر کو۔یہ درس بھی ظہر سے مغرب تک چار گھنٹہ روزانہ ہوا کرتا تھا۔اس کے لئے بھی مجلین کی جماعت موجود رہتی۔جسے درس کے وقت حضور کے قریب جگہ دی جاتی اور روزانہ ان کا امتحان بھی لیا جاتا تھا - (۴) ۱۹۳۸ء میں سورہ مریم سے سبا تک کا درس پہلے عورتوں میں پھر مردوں میں جاری ہوا۔(۵) جولائی ۱۹۴۴ء میں حضور نے تیسویں پارے کا آغاز فرمایا اور پہلے ڈلہوزی میں سورہ النبا سے سورہ طارق تک پھر جنوری ۱۹۴۵ء میں قادیان میں سورہ اعلیٰ سے سورہ قدر تک اس کے بعد اگست ۱۹۴۵ء بمقام ڈلہوزی سورۃ البینہ سے سورہ الھمزہ تک اور ۱۹۴۸ ء میں بمقام کو ئٹہ سورہ الفیل سے سورہ کو ٹر تک کا درس دیا۔(۶) ۱۹۴۹ء میں حضور نے کوئٹہ میں سورہ مریم کے ابتداء سے درس دینا شروع کیا اور اس کی تحمیل مسجد مبارک ربوہ میں فروری۔مارچ ۱۹۵۳ء میں فرمائی۔حضور کی مصروفیات حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی معمور الاوقات زندگی میں خلیفہ بننے کے بعد مصروفیات کا زبردست اضافہ ہو گیا تھا۔آپ اول وقت نماز صبح پڑھاتے۔پھر درس دیتے پھر بارہ بجے تک ڈاک دیکھتے۔اور جوابات وغیرہ کے لئے ہدایات دیتے اور دیگر مہمات خلافت انجام دیتے عصر کے بعد مسجد اقصیٰ میں حقائق و معارف سے لبریز درس عام ہو تا شام کے وقت مجلس عرفان ہوتی۔جس میں عجیب عجیب نکات معرفت بیان فرماتے۔حضور نے اپنی ایک ابتدائی مجلس میں یہ نکتہ بیان فرمایا کہ غیر مبالغ بار بار " شاورهم فی الامر " کی طرف توجہ دلاتے ہیں میں مشورہ تو کرتا ہوں۔مگر اس مشورہ کا لازمی طور سے پابند ہونا تو کہیں نہیں لکھا۔بلکہ اس