تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 142
" تاریخ احمدیت جلد ۴ 134 خلافت ثانیہ کا پہلا سال ان کے مقابل اخبار "کر زن گزٹ " (دہلی) " اہلحدیث " امرتسر اخبار "لمت " لاہور اور اخبار سرمۂ روزگار (آگرہ) نے مبایعین سے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔"کر زن گزٹ " نے یہ لکھا کہ " I - " محمود احمد بجائے خود جوان صالح، واعظ۔پڑھے لکھے اور وجیہہ شخص ہیں ان کی قابلیت کا ان کے مخالف بھی اعتراف کرتے ہیں اگر کوئی اعتراض ان پر ہے تو یہ ہے کہ سوائے مرزا غلام اللہ صاحب کے مریدوں کے یہ صاحبزادے دوسرے مسلمانوں کو کافر جانتے ہیں وہ جانا کریں۔اس خیال سے ان کی جانشینی کو کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ حکیم نور الدین صاحب نے اپنی وصیت میں کوئی شرط ایسی لکھ دی ہے کہ وہ شخص مرزا صاحب کا جانشین ہو سکتا ہے جو اور مسلمانوں کو کا فرتونہ سمجھے بلکہ گمراہ خیال کرے۔مرحوم نے تو صرف یہ بڑی شرط لگائی ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے دوستوں سے اخلاق اور رواداری کا برتاؤ کرے مرد صالح ہو اور لکھا پڑھا ہو " - اخبار اہلحدیث" نے لکھا۔(۱) ابھی کل کا واقعہ ہے کہ قادیانی اخبار لکھا کرتے تھے کہ ہم ہی اہلسنت والجماعت ہیں۔کیونکہ ہماری جماعت ایک امام کے ماتحت ہے سچ تو یہ ہے کہ ہم بھی ان کے اس دعوے کی قدر بلکہ ضبط کرتے تھے۔(۲) ہماری رائے مسئلہ خلافت کے متعلق یہ ہے کہ قوم کا امیر ہونا ضروری ہے جس قدر قانون اجازت دے اسی قدر میں امیر انتظام کا مجاز ہو۔اس کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ امیر اہم معاملات میں مقطع بحث ہوا کرتا ہے۔چنانچہ مرزا صاحب کے انتقال کے بعد باوجود صدر انجمن احمدیہ کے مولوی نور الدین صاحب کا انتخاب اسی اصول سے ہوا تھا۔رہا مسئلہ تکفیر مسلمانان - سو یہ بھی کوئی معقول وجہ نہیں۔مولوی نور الدین صاحب کا نتوئی ۲۸/ فروری ۱۹۱۴ء کے الحام میں چھپا تھا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ مرزا صاحب کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ سابقہ نبی کا انکار کرنا۔اس دعوئی پر آیت قرآنی لا نفرق بین احد من رسلہ لکھی تھی۔اس وقت کسی نے بھی اس فتوے کا مقابلہ نہ کیا نہ اس کو غلط کہا رہا مسئلہ کا اختلاف سو یہ بھی کوئی معقول بات نہیں۔خلیفہ اور ماتحتوں کا اختلاف خلافت راشدہ میں بھی ہوتا تھا۔حضرت ابو ذر ا کا قصہ مشہور ہے کہ باوجود زکوۃ دینے کے مال جمع کرنے والوں کو کافر کہتے تھے۔حالانکہ تمام صحابہ خصوصاً خلفاء ان کے خلاف تھے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ حضرت عثمان کے سامنے ان کی سخت لڑائی ہوئی آخر کار خلیفہ نے ان کو شہر سے باہر چلے جانے کا حکم دیا۔تو وہ با ہر دیہات میں جار ہے مگر اپنا مذ ہب نہیں چھوڑا۔اس قسم کی صد ہا مثالیں ملتی ہیں۔درس القرآن کا آغاز اب ہم اختلافات کی ابتدائی تاریخ سے فارغ ہو کر اس زمانے کے دوسرے اہم واقعات کی طرف آتے ہیں جہاں سے ہماری تاریخ ایک مستقل راستہ پر گامزن ہوتی ہے۔۱۰۸