تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 141 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 141

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 133 خلافت ثانیہ کا پہلا سال ۱۹۱۴ ء میں پہلے خلیفہ کی وفات کے بعد جماعت احمد یہ دو حصوں میں بٹ گئی جماعت کا اصل حصہ یعنی قاریانی شاخ تو بانی سلسلہ کے دعوی نبوت اور ان کے بعد اجرائے خلافت پر قائم رہی لیکن الگ ہونے والے لاہوری فریق نے ان دونوں کا انکار کر دیا اور ایک نئے امیر کی قیادت میں "انجمن اشاعت اسلام" کی بنیاد ڈالی۔لاہوری فریق نے بعد میں اہلسنت و الجماعت کے ساتھ مل جانے کی کوشش کی۔لیکن علماء اب بھی ان کو شبہ کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں"۔(ترجمہ) تاریک مستقبل منکرین خلافت کی تحریک کے ماضی و حال کے خدو خال تو نمایاں ہو چکے اب مستقبل کی بابت بھی سنیئے کہ غیر مبایعین کا ایک حصہ کس درجہ مایوسی اور قنوطیت میں ڈوبا ہوا ہے۔”پیغام صلح لکھتا ہے۔بعض کو تاہ نہم یہ خیال بھی دل میں لئے ہوئے ہیں جس کا اظہار وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے ہیں۔کہ چونکہ یہ صدی اب ختم ہونے والی ہے اس لئے اس صدی کے مجدد کی تحریک بھی اب زندگی کے آخری مرحلوں میں ہے اور اب نیا مجدد ہی آکر اس کو دوبارہ زندہ کرے گا۔اس میں زندگی کی روح پیدا کرنا ہمارا کام نہیں "۔te غیر مبائع اصحاب کا کہنا ہے کہ ”جماعت کو دو ملکی پریس کا اختلافات سلسلہ پر تبصرہ حصوں میں تقسیم کر دینا ایک ایسا قدم تھا جس پر ان بزرگان (یعنی جناب محمد علی صاحب اور ان کے ہم خیال ممبروں نے بعد میں بہت سوچ سمجھ کر اور جبراً قدم اٹھایا۔یہ خدا کے مسیح کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے کا یہ عذر کہاں تک درست ہے ؟ اس پر کچھ کہنے کی تو چنداں ضرورت نہیں ہے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اس "جبری قدم " پر غیروں نے خوشی کے شادیانے بجائے اوریقین کرنے لگے کہ اب سلسلہ احمدیہ کی تباہی قطعی ویقینی ہے۔اس موقع پر ملکی پریس نے اختلافات سلسلہ کی خبریں بڑے اہتمام سے شائع کیں اور ان پر تبصرہ بھی کیا مسلمان اخبارات کا رد عمل ملے جلے خیالات پر مبنی تھا بعض اخبارات کھلے طور پر غیر مبایعین کی تائید کرتے تھے اور بعض خلافت کے اصول پر جماعت قادیان کے نظریہ کو معقول قرار دیتے تھے چنانچہ محض "مسئلہ کفر و اسلام کی بنا پر (جو غیر مبایعین کے پراپیگنڈا کا اہم ترین حربہ تھا) اخبار "الحلال" نے مولوی محمد علی صاحب کے رویہ کو بہت سراہا اور لکھا۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے اس بارے میں جو تحریر شائع کی ہے۔اور جس عجیب و غریب دلاوری کے ساتھ قادیان میں رہ کر اظہار رائے کیا ہے۔وہ فی الحقیقت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیشہ اس سال کا ایک یادگار واقعہ سمجھا جائے گا۔اخبار "وکیل" (امرتسر) اور اخبار مدینہ "بجنور " بھی اس کی تائید میں تھے۔1+0