تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 140
احمدیت۔جلد ۴ 132 خلافت ثانیہ کا پہلا سال غیروں میں رشتہ ناطہ کے نتائج غیر احمدی حلقوں میں ہر دلعزیزی اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ان کو رشتے دینے کا سلسلہ جاری کیا گیا۔جس کے اتنے ہولناک اثرات سامنے آئے کہ ”پیغام صلح" میں لکھنا پڑا کہ ” عہد کر لو کہ احمدی کا رشتہ احمدی گھرانے میں ہو گا۔احمدی بچیوں کی شادیوں میں ایک احمدی مزدور کو غیر احمدی نواب سے زیادہ اچھا نہ سمجھیں تو اس کا نام قومیت نہیں۔اور اسے تنظیم کرنا گناہ ہے۔اسی طرح اگر ہم لڑکوں کی شادی کے وقت ایک غریب اور بے کس احمدی لڑکی کو ایک کروڑ پتی غیر احمدی کی لڑکی پر ترجیح نہ دیں تو ہمارا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا دعویٰ فضول اور بے معنی ہے۔لاہوری تحریک دوسروں کی نظر میں انجمن اشاعت اسلام لاہور کے بانیوں نے محض عامتہ المسلمین میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کے اصول و نظریات تک کو قربان کرنا گوارا کر لیا۔لیکن اتنی بڑی قربانی کے باوجود غیر احمدی حلقوں میں ہر دلعزیزی کا ذکر تو رہا ایک طرف وہ از حد مشکوک سمجھے جاتے ہیں۔اس امر کے ثبوت میں صرف چند اقتباسات کافی ہوں گے۔پروفیسر الیاس برنی نے لکھا۔" ہی دوسری جماعت لاہور۔۔۔۔اس نے قادیانی تعلیم میں اس مصلحت آمیز ترمیم کر کے مسلمانوں کو ملتفت کرنے کی راہ نکالی۔اور اس میں کچھ کامیابی بھی ہوئی لیکن اصل حالات منکشف ہونے پر مسلمان چونک پڑے " مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر اخبار زمیندار نے اپنی رائے یہ دی کہ ”قادیانی جس عقیدے کی تشہیر کر رہے ہیں۔لاہوری اس پر خفیہ طور پر عمل پیرا ہیں اصولی طور پر دونوں کا عقیدہ ایک ہی ہے۔دوکانیں مختلف ہیں لیکن جنس ایک ہے "۔مولا نا عبد الماجد نے صدق" لکھنو میں تحریر کیا۔قادیانی امت کے بعض افراد نے اس مضر عمل کا احساس کیا اور انہوں نے تاویل در تاویل اور بعض صورتوں میں انکار تک کر کے امت کے قریب آنے کی سعی کی۔اور لاہوری قادیانی کے نام سے مشہور ہو گئے لیکن یہ ایک واقعہ ہے کہ امت کے حصار سے جس شخص کے اثر کے ماتحت وہ نکلے تھے جب تک اس کے اثر کا قاطبتہ وہ انکار نہ کریں۔امت کے وسیع دائرہ میں آنے کا ان کے لئے امکان نہیں "۔یہ تو پاک و ہند کے بعض مسلمان لیڈروں کے خیالات ہیں۔اب یورپ کے مشہور مستشرق ایچ اے آر گب (پروفیسر آکسفورڈ یونیورسٹی) کی رائے ملاحظہ ہو۔جماعت احمدیہ اور مسلمانوں کے سواد اعظم سے کٹ جانے کا کیا عبر تاک نقشہ پیش کیا ہے۔لکھتے ہیں۔44