تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 139
تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 131 خلافت ثانیہ کا پہلا کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے ناواقف ہے"۔ANAL بنیادی نظریہ میں شکست کفر و اسلام کا مسئلہ تو محض غیروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے اٹھایا گیا تھا۔ورنہ اصل بنیادی اختلاف تو ان حضرات کا یہ تھا کہ یہ انجمن پر کسی خلیفہ مطاع کی بالا دستی کے قائل نہ تھے اور اسی کا نام ان کے نزدیک جمہوریت تھا لیکن ایک لمبے تجربہ کے بعد خود مولوی محمد علی صاحب کو محسوس ہو گیا کہ جمہوریت کے علمبرداروں میں " آزادی حد سے گزری ہوئی " ہے۔جب قدم قدم پر اس نام نہاد جمہوریت کے تلخ نتائج سامنے آنے لگے۔تو صاف صاف کہنا پڑا۔” نظام کی بنیاد ایک ہی بات پر ہے کہ اسمعو و اطیعوا سنو اور اطاعت کرو جب تک یہ روح نہ پیدا ہو جائے۔جب تک تمام افراد جماعت ایک آواز پر حرکت میں نہ آجا ئیں جب تک تمام اطاعت کی ایک سطح پر نہ آجا ئیں ترقی محال ہے "۔اسی طرح " پیغام صلح" نے لکھا۔"یہ (ترقی) تبھی ممکن ہے۔جب ایک واجب الاطاعت امیر کے ہاتھ میں جماعت کی باگ ڈور ہو۔تمام افراد اس کے اشارے پر حرکت کریں۔سب کی نگاہیں اس کے ہونٹوں کی جنبش پر ہوں اور ونسی اس کی زبان فیض ترجمان سے کوئی حکم مترشح ہو سب بلا حیل و حجت اس پر عمل پیرا ہوں"۔اور لکھا۔” ضروری ہے کہ ایک مرکزی شخصیت موجود ہو جس کا ہر حکم اس قانون یعنی قانون شریعت" کے ماتحت واجب التعمیل ہو اور کوئی فرد جماعت اس کی بجا آوری میں چون و چرا نہ کرے۔اس امارت کی بہترین مثال زمانہ امارت ابو بکر و عمر ہے وہ قرآن کے تابع تھے۔لیکن کیا مجال کہ کوئی ان کے احکام سے سرمو انحراف کر سکے " جو مولوی محمد علی صاحب نے خلافت احمدیہ کا انکار صرف اس بناء پر کیا تھا کہ وہ انجمن کے مقابل خلافت کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔دوسری طرف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا عقیدہ و مسلک یہ تھا کہ خلافت بنیادی و مرکزی چیز ہے۔باقی سب امور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔اس واقعہ پر ابھی آٹھ دس سال بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ مولوی محمد علی صاحب جو مسیح موعود کی خلافت سے انکار کر چکے تھے خلیفتہ المسلمین ترکی کی خلافت کے پُرجوش علمبرداروں میں شامل ہو گئے اور اس کی تائید میں "خلافت اسلامیہ " کے نام سے ایک مستقل رسالہ لکھا اور اس میں اقرار کیا کہ "خلافت ایک مذہبی معاملہ ہے اور وہ بھی اس قدر اہم اور ضروری ہے کہ اس کے سامنے فرقہ بندیوں کے جملہ اختلافات مٹ گئے۔۔۔۔۔اسلامی خلافت معمولی بات نہیں بلکہ قرآن کریم کے صریح الفاظ کے ماتحت قائم ہے خلافت کا زوال خود قلب اسلامی پر صدمہ ہے۔"