تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 127 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 127

119 خلافت نمائید کا پہلا سال جلد ۴ کی وجہ سے نہ ہو اور نام لکھتے وقت اعوذ اور بسم اللہ ضرور پڑھ لی جائے۔یہ امور اچھی طرح واضح کر دینے کے بعد میں نے کاغذ کے پرچوں کی گڈی سب سے پہلے اپنے والد ماجد صاحب کی خدمت میں پیش کی اور آپ نے پرچہ میں نام لکھ کر الٹ کر رکھ دیا۔پھر اسی طرح ہو تا رہا یہاں تک کہ سب پر چوں پر نام لکھے جاچکے تو میں نے گڈی اٹھا کر الٹی اور حضرت والد ماجد کا پرچہ سامنے آیا۔اس پر آپ نے لکھا تھا۔صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب۔اس کے بعد میں ہر پرچہ کو دیکھتا ہوا آخر پرچہ تک پہنچ گیا۔نام کے لکھنے میں الفاظ کا فرق تو تھا۔کسی نے حضرت میاں محمود احمد صاحب لکھا تھا۔کسی نے حضرت میاں صاحب اور کسی نے حضرت صاحبزادہ صاحب مگر تمام لکھنے والوں میں سے ایسا ایک بھی نہ تھا۔جس نے حضرت خلیفہ ثانی کے سوا کسی اور کا نام لکھا ہو۔میں نے اس وقت یہ تو ظاہر نہ کیا کہ دوستوں نے کس کا نام لکھا ہے۔صرف اتنا کہہ دیا کہ سب دوستوں نے ایک ہی نام لکھا ہے۔میں نے اس موقع پر کھلے الفاظ میں تو یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ میرے خیال میں حضرت خلیفہ اول وفات پاچکے ہیں۔لیکن جیسا کہ اس تحریر میں ظاہر کر چکا ہوں مجھے یہی یقین تھا اور نام لکھوانے کی کارروائی اسی یقین کی وجہ سے کی تھی اور حضرت والد ماجد بھی میری ان مصروفیات سے جس پر آپ نے دوبارہ مجھے بولنے کی اجازت دی تھی۔یہ سمجھ گئے تھے کہ اس کے خیال میں حضرت خلیفہ اول زندہ نہیں ہیں۔اسی بنا پر میں نے نام لکھوانے کی کوشش کی اور اسی بناء پر مجھے یہ ضرورت معلوم ہوئی کہ نام لکھے ہوئے کاغذ کے پرچے آج ہی قادیان بھیج بھی دیئے جائیں۔اس کام کے لئے میں نے بابو محمد علی خان صاحب شاہجہانپوری کو تجویز کیا۔اگر چہ انہوں نے بھی کاغذ کے پرچے پر تو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کا نام مبارک ہی لکھا تھا۔تاہم چونکہ جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے ان کے تعلقات بہت گہرے تھے اس لئے مجھے انہیں کا بھیجنا زیادہ ضروری معلوم ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ قادیان جانے کے لئے تیار ہو کر آئیں۔اور اسٹیشن کو اسی سڑک سے جائیں۔میں مسجد ہی میں آپ کا منتظر رہوں گا۔وہ مغرب سے ایک گھنٹہ پہلے یکے میں پہنچے میں انہیں دیکھتے ہی مسجد سے ان کے پاس پہنچا۔اور ان سے کہا کہ میں مریض ہونے کی وجہ سے سفر کے لائق نہیں ورنہ میں بھی آپ کے ساتھ ہی روانہ ہو جاتا اور یہ نام لکھے ہوئے پرچے اپنے ساتھ لے جائیں اور ضرورت پیش آنے پر ان سے کام لیں۔آپ کو سہارنپور کے اسٹیشن پر پہنچ کر یہ معلوم ہو جائے گا کہ میں نے کس غرض سے آپ کو قادیان بھیجا ہے یہ کہہ کر نام لکھے ہوئے پرچوں کا لفافہ میں نے ان کے حوالے کر دیا۔وہ ہفتہ کے روز دو پھر سے پہلے قادیان پہنچ گئے۔اس وقت سے لے کر بیعت (خلافت ثانیہ ) تک ساری کارروائیاں ان کے سامنے ہو ئیں انہیں یہ علم تو تھا کہ خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب سے