تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 126
تاریخ احمدیت جلد ۴ 118 خلافت ثانیہ کا پہلا سال چاہتا تھا کہ نماز جمعہ یا تو حضرت والد ماجد پڑھا دیں یا عزیزی حافظ سخاوت علی۔مگر مجھی کو پڑھانی پڑی اور اس نماز میں مجھ پر ایک ایسی حالت وارد ہوئی جو پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔میں اب تک نمازوں میں حضور کی صحت کے لئے جو دعائیں کرتا رہا تھا ان میں دل میری زبان کا ساتھ دیتا تھا۔فجر کی نماز میں بھی یہی ہوا تھا۔مگر نماز جمعہ کی دعا میں دل نے میری زبان کا ساتھ نہ دیا۔اس نامانوس حالت نے جو غالباً اسی وجہ سے مجھ پر وارد کی گئی تھی مجھے یقین دلا دیا کہ مرشدی و مولائی مطاعی و ملاذی حضرت خلیفہ اول اس دنیا میں موجود نہیں۔اعلیٰ ملین کی طرف رحلت فرما ہو چکے ہیں۔نماز ختم کرتے ہی یہ اعلان کر دیا کہ سنت و نفل پڑھنے کے بعد کوئی صاحب تشریف نہ لے جائیں۔سب مسجد میں ہی موجود رہیں۔میں نے باقی نماز پڑھنے کے بعد مکان سے قلم و دوات اور کاغذ منگوا کر اور کف دست کے برابر بہت سے ٹکڑے کر کے سامنے رکھ لئے۔میں اس وقت مسجد کے جنوبی دیوار سے ملا ہوا شمال کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھا تھا۔اسی جگہ کھڑے ہو کر میں نے احباب کو خطاب شروع کر دیا۔ابھی چند ہی لفظ زبان سے نکلے ہوں گے کہ حضرت والد ماجد نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے خلیفہ کا انتخاب درست نہیں۔میں بیٹھ گیا۔اور میں نے عرض کیا کہ میں اس وقت کسی کے انتخاب یا کسی کی بیعت کے لئے احباب سے کچھ کہنا نہیں چاہتا۔بلکہ صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب کبھی ان کی رائے کی ضرورت پیش آئے تو اس وقت ان کی رائے کیا ہوگی؟ میں چاہتا ہوں کہ احباب میں سے کسی ایک دوست کی رائے بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور کے خلیفہ برحق مولوی نور الدین صاحب کے مسلک سے خلاف نہ ہو اور میں اس وقت اس کارروائی پر خود بخود آمادہ نہیں ہوا بلکہ اس حالت نے جو نماز جمعہ میں حضرت خلیفتہ المسیح کے لئے دعائے صحت کرتے ہوئے مجھ پر وارد ہوئی اور جسے اس وقت ظاہر کرنا مناسب نہیں۔مجھے آمادہ کیا تھا۔میری اس گزارش پر حضرت والد صاحب نے یہ فرمایا کہ یہ بات ہے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔مجھے بولنے کی اجازت دے دی اور میں نے احباب کو خطاب کیا کہ اس وقت نہ تو کسی کا نام پیش کرنا چاہتا ہوں اور نہ اس وقت کے لئے آپ سے کوئی رائے چاہتا ہوں میرا مقصود یہ ہے کہ آپ کی آراء اس وقت کے لئے محفوظ ہو جائیں۔جس وقت کہ ان کی ضرورت پیش آئے۔اور اس کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ آپ جس کے لئے رائے دینا چاہتے ہوں کاغذ کے پرچوں کی گڈی میں سے جو سامنے رکھی ہے۔ایک پرچہ پر اس کا نام لکھ دیں۔اس احتیاط سے کہ دو سرا آپ کے لکھے ہوئے نام سے واقف نہ ہو سکے۔پھر آپ اس پرچہ کو الٹا کر کے میرے سامنے رکھے ہوئے کاغذ کے بڑے اوراق پر رکھتے جائیں اور نام اس شخص کا لکھیں جس کو آپ کا دل بھر لحاظ اس منصب عالی کا اہل اور مستحق قرار دیتا ہو۔ہر شخص کی رائے ذاتی ہو اور کسی دوسرے کے زیر اثر ہونے