تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 120
112 خلافت ثانیہ کا پہلا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایہ اللہ تعالی کا پر پوست اعلان ایده اگر کوئی شخص واقعہ میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اسلام کے غلبہ اور اس کی اشاعت کے لئے جس قدر کام کئے ہیں وہ نعوذ باللہ لغو ہیں اور اسلام کو ان کی بجائے کسی اور رنگ میں کام کرنے سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ تم میدان میں آؤ۔اور کام کر کے دکھاؤ اگر تمہارا کام اچھا ہوا تو دنیا خود بخود تمہارے پیچھے چلنے لگ جائے گی لیکن اگر ایک جماعت ایسی ہو جو صرف اعتراض کرنا ہی جانتی ہو تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دنیا لا وارث نہیں ہے۔اس دنیا کا ایک زندہ اور طاقتور خدا ہے وہ مجھ پر اعتراض کر سکتے ہیں۔وہ میرے خلاف ہر قسم کے منصوبے کر سکتے ہیں۔وہ مجھے لوگوں کی نگاہ سے گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے جھوٹے الزام لگا سکتے ہیں۔مگر وہ ان حملوں کے نتیجہ میں میرے خدا کے زبر دست ہاتھ سے نہیں بیچ سکتے۔لیکن میں اس خدا کے فضلوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ میرا نام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا۔اور گو میں مرجاؤں گا اللہم متعنا بطون حیاتہ ، مگر میرا نام کبھی نہیں مٹے گا۔یہ خدا کا فیصلہ ہے جو آسمان پر ہو چکا کہ وہ میرے نام اور میرے کام کو دنیا میں قائم رکھے گا اور ہر شخص جو میرے مقابلہ میں کھڑا ہو گا۔وہ خدا کے فضل سے ناکام رہے گا۔۔۔۔۔خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں مجھے کتنا بھی برا سمجھیں بہر حال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے آج نہیں آج سے چالیس پچاس بلکہ سو سال کے بعد تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا وہ صحیح کہا تھا یا غلط میں بے شک اس وقت موجود نہیں ہوں گا۔مگر جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مورخ اس بات پر مجبور ہو گا کہ وہ اس تاریخ میں میرا ذکر بھی کرے۔اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جائے گا۔جس کو پُر کرنے والا ا سے کوئی نہیں ملے گا"۔از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) تقریر فرموده سالانه جلسه ۲۸/ دسمبر ۱۹۶۱ء صفحه ۱۳ تا ۱۸) شائع کردہ نظارت اصلاح وارشاد صد را منجمن احمدیه - ربوه