تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 112
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ شکر گزار ہوں گا۔104 حواشی مولوی حالی صاحب نے میرے خط کا فور اجواب دیا۔جس میں لکھا تھا کہ صاحبزادے ! تمہار الخط پہنچا۔شاعری بیکاری کا دھندا ہے۔میری نصیحت تم کو یہ ہے کہ اس فضول جھنجھٹ میں نہ پڑو یہ وقت اور یہ عمر شاعری کی نہیں تحصیل علم کی ہے۔پس جہاں تک ممکن ہو دل لگا کر علم حاصل کرو۔اور جو محنت شاعری جیسے بیکار شغل میں اٹھاتے ہو وہ تحصیل علم میں اٹھاؤ اور کسی اور طرف دھیان نہ دو۔جب لکھ پڑھ کر بڑے ہو جاؤ گے اور فکر معاش سے بھی فراغت ہوگی اس وقت شاعری بھی کر لیتا۔کونسی بھائی جارہی ہے۔یہ واقعہ بیان کر کے حضرت صاحب فرمانے لگے۔"خواجہ صاحب اجب میں نے یہ خط آپ کے والد صاحب کو لکھا تھا اس وقت میں بچہ تھا اور اب میری عمر بڑھاپے کے قریب پہنچ گئی ہے مگر آج بھی جب کبھی مجھے آپ کے والد کی قابل قدر نصیحت یاد آتی ہے۔تو میں محسوس کرتا ہوں کہ مولانا حالی نے مجھے بہت ہی عمدہ اور نہایت ہی نیک مشورہ دیا تھا۔اور مجھے ہمیشہ اس نصیحت میں مولوی صاب کا خلوص چھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔اور بے انتیار ان کی نیکی اور شرافت کی تعریف کرنے کو دل چاہتا ہے "۔یہ واقعہ سن کر خواجہ سجاد حسین صاحب نے حضرت صاحب سے کہا کہ آپ نے ٹھیک فرمایا۔والد صاحب مرحوم کا قاعدہ تھا کہ دہ اوگوں کو شاعری سے روکتے اور اپنا شاگر دینے سے منع کیا کرتے تھے کیونکہ لوگوں نے شاعری کو عام طور پر ایک تفریح کا ذریعہ اور فضول شغل پیالیا ہے اور اس سے وہ کام نہیں لیتے جو لینا چاہئے۔اس کے بعد کچھ متفرقی باتیں ہوتی رہیں اور قریباً آدھ گھنٹے کی دلچسپ ملاقات کے بعد خواجہ صاحب حضرت صاحب سے رخصت ہو کر واپس آگئے "۔منہ ۳۵ ولادت ۱۸۳۴ ء وفات ۲۰ اکتوبر ۶۱۹۰۹ مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر فاضل انچارج شعبہ زود نویسی ربوہ کا بیان ہے کہ " حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۹۴۸ ء میں جب موسم گرما بسر کرنے کے لئے کوئٹہ تشریف لے گئے اور وہاں درس القرآن بھی حضور نے جاری فرما دیا تو ان دنوں حضور عصر کی نماز کے بعد خصوصیت کے ساتھ اس شامیانہ کے نیچے ہی تشریف رکھتے تھے جہاں نمازیں ادا کی جاتی تھیں اور جماعت احمدیہ کوئٹہ کے دوست حضور کے کلمات طیبات سے مستفیض ہوتے تھے۔ان دنوں حضور نے ایک مجلس میں ذکر فرمایا کہ بچپن میں جب میں نے شعر کہنے شروع کئے تو مجھے کسی نامور استاد کی تلاش ہوئی جس سے میں اصلاح لے سکوں۔چنانچہ اس غرض کے لئے میں نے جلال لکھنوی کا انتخاب کیا اور خط و کتابت کے ذریعہ ہی ان سے اصلاح لیتارہا۔حضور نے جلال لکھنوی کی بہت تعریف فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ وہ داغ سے بھی اچھے شعر کہتے ہیں"۔روایات سروری (غیر مطبوعہ مرتبہ مولانا صدر الدین صاحب فاضل سابق مبلغ ایران سے معلوم ہوتا ہے کہ گورداسپور میں قیام کے دوران حضرت خلیفہ اول نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں مسئلہ قصر دریافت کرنے کے لئے بھی بھجوایا تھا حضور نے جو ارشاد فرمایا اس کا شخص یہ تھا کہ پندرہ دن ٹھہرنا ہو تو نماز پوری پڑھنی چاہئے۔۱۳۸ حکیم دین محمد صاحب ہٹنر کوئٹسٹ کا بیان ہے کہ میں بھی اس سفر میں گیا تھا۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مقبرہ جہانگیر کو دیکھنے کے لئے بھی تشریف لے گئے تھے۔الفضل و اگست ۱۹۳۶ء صفحه ۶ کالم ۳۴۲ 400 یہ نوٹ ۱۹۰۴ء میں ہی لکھا گیا یا بعد میں اس کی بابت قطعی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔اس مقام پر یہ واقعہ صرف طبع دوم کے سنہ کی مناسبت سے درج کیا گیا ہے۔ا ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ ۲۴۴-۲۴۵( اس کتاب میں سمو ا میٹرک کی بجائے مڈل لکھا گیا ہے۔الحکم ۲۴ مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ کالم ۳- ۱۵۳- حکیم صاحب نے یہ روایت براہ راست مؤلف کتاب ہذا کو سنائی ہے۔سیرت مسیح موعود صفحه ۱۳۵۴ از حضرت عرفانی) هم پیر اخبار / جولائی ۱۹۰۶ء صفحے کالم ۲ بحوالہ احکم ۷ ۱ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ کالم ہے۔الموعود صفحه ۷۷ تا ۸۴