تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 111 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 111

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ ۳۰ تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۷ ۷ تا ۹۰ ۱۳۱ الفضل ۵/ اگست ۱۹۳۴ء صفحہ ۷ کالم ۳ ۱۳۲ 103 تفسیر کبیر (میٹول) صفحه ۱۳۸۵ کالم ۲۱ - شائع کردہ الشركته الاسلامیہ ۱۳۳- تذکره طبع دوم صفحه ۷۸۰ - - الفضل ۲/ اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحه ۲ کالم ۱- ۱۳۵- تحفہ گولڑویہ صفحه ۵۶ مطبوعه ۱۹۰۲ء- ۱۳۶ نزول المسیح صفحه ۱۹۲ مطبوعہ اگست ۱۹۰۹ء طبع اول- ۱۳۷- شادی کے تفصیلی حالات تاریخ احمدیت حصہ سوم صفحہ ۲۳۱ تا ۲۳۳ میں گزر چکے ہیں۔۱۳۸ مکتوبات احمد یہ جلد نم نمبر پنجم صفحه ۳۱۸ مطبوعه ۰۶۱۹۴۴ ۱۳۹ مواہب الر حمن صفحه ۱۳۹ مطبوعہ جنوری ۱۹۰۳ء۔حواشی ۱۳۰ حکیم دین محمد صاحب پیشنر کو ٹسٹ فرماتے ہیں کہ حضور نے اس سے پہلے ایک غزل بھی کسی تھی جس کا ایک مصرعہ یہ تھا۔ع ور دہم سے کبھی جدا نہ ہوا۔حضور نے حدائق البلاغہ کی کتاب حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بہل سے پڑھی اور ان سے علم سے جدا۔عروض سیکھا۔الفضل ۱۰/ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۶ کالم - ۱۴۲ - الفضل ۲۵/ اکتوبر ۱۹۵۵ء صفحه ۴ کالم ۱-۲- ۱۴۳- تذکره حالی جلد اول صفحه ۱۸۹-۱۹۰ مولفہ جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی شائع کردہ حالی بکڈ پر پانی پت (اکتوبر ۱۹۳۵ بار اول ۱۴۴۔اس ضمن میں ایک مفصل واقعہ کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔جس کے چشم دید گواہ بر صغیر پاک و ہند کے مشہور ادیب جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی ہیں آپ اپنی ایک تحریر میں فرماتے ہیں۔۱۹۲۸ء کی بات ہے۔جبکہ استاذی المحترم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اللہ کی دعوت پر شمس العلماء مولانا الطاف حسین حالی پانی پتی کے فرزند اصغر جناب خواجہ سجاد حسین صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر تعلیمات صوبہ پنجاب ہمارے سالانہ جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔جناب خواجہ صاحب کے ساتھ میں بھی پانی پت سے آیا تھا۔جب سالانہ جلسہ کے افسر حضرت مولانا میر محمد الحق ان کو پتہ لگا۔تو انہوں نے فوراہم دونوں کے قیام و طعام کا نہایت عمدہ انتظام بطور خاص کر دیا۔قادیان پہنچنے کے تیسرے دن خواجہ سجاد حسین صاحب وقت مقرر شده پر حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے قصر خلافت تشریف لے چلے تو میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔حضرت صاحب نے دروازے تک تشریف لا کر حضرت خواجہ صاحب کا خیر مقدم کیا اور نہایت عزت و احترام سے لا کر اپنے پاس ایک نرم گدیلے پر بٹھا لیا اور فرمانے لگے کہ آپ نے بڑی تکلیف کی جو اس ضعیفی میں سفر کی تکلیف اٹھا کر یہاں تشریف لائے یہاں آرام سے تو ہیں اور کہاں ٹھہرے؟ خواجہ صاحب نے فرمایا۔الحمد للہ میں بہت آرام سے ہوں کسی قسم کی تکلیف نہیں۔اور یہاں مجھے گھر کا سا آرام مل رہا ہے۔ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب نے اس مرتبہ بہت اصرار سے مجھے لکھا کہ جلسہ سالانہ میں ضرور آئیں اس لئے آگیا ہوں۔اور الحمد للہ جلسہ میں شامل ہو کر مجھے خوشی ہوئی اور یہاں کا ماحول میں نے بہت دین دارانہ پایا۔گفتگو کے دوران میں حضرت صاحب نے فرمایا۔خواجہ صاحب ! میں آپ کے والد مولوی الطاف حسین حالی کا نہایت ممنون ہوں انہوں نے مجھے ایک نصیحت میرے بچپن میں کی تھی جو مجھے آج تک یاد ہے۔خواجہ سجاد حسین صاحب نے نہایت تعجب کے ساتھ پوچھا کہ والد مرحوم کے ساتھ آپ کا کیا واقعہ ہو ا تھا؟ اور وہ کب اور کہاں آپ سے ملے تھے ؟ حضرت صاحب نے فرمایا کہ واقعہ یہ ہوا تھا کہ بچپن میں مجھے شاعری کا شوق پیدا ہوا۔جس پر میں سوچنے لگا کہ شاعری میں استاد کے بناؤں؟ سوچتے سوچتے خیال آیا کہ مولوی الطاف حسین حالی کو استاد بنانا چاہئے وہ بڑے اچھے قومی شاعر ہیں یہ خیال آتے ہی میں نے انہیں پانی بہت ایک خط لکھا کہ میں اگر چہ ابھی چھوٹا بچہ ہوں مگرمجھے شعر کہنے کا بڑا شوق ہے اگر میں آپ کو یہاں سے اپنے اشعار اور نظمیں لا کر بھیج دیا کروں اور آپ ان کی اصلاح کر کے انہیں واپس بھیج دیا کریں تو اس عنایت پر میں آپ کا نہایت