تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 103
تاریخ احمدیت جلد ۴ 95 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت نمازوں سے باہر دعا میں لگ جاوے اور رات کو اٹھ کر بھی دعا کرے۔اور جن کو طاقت ہو روزہ رکھیں اس تقریر کے بعد سب لوگوں کے ساتھ مل کر آپ نے دعا کی۔تقریر کے بعد آپ کو رستہ میں مولوی محمد علی صاحب مل گئے انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد بجلدی سے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ اختلاف ہے اس لئے چار پانچ ماہ تک جماعت غور کرے مبادلہ خیالات کے بعد جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جائے مگر آپ نے فرمایا۔اس قدر عرصہ میں بغیر کسی رہنما کے جماعت میں فساد پڑا تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کی وفات کے موقع پر بھی اسی طرح ہوا تھا کہ جو لوگ جمع ہو گئے تھے۔انہوں نے مشورہ کر لیا تھا اور یہی طریق پہلے زمانے میں بھی تھا۔حضرت مسیح موعود کی وفات پر جماعت اس بات کا فیصلہ کر چکی ہے کہ اس میں سلسلہ خلفاء چلے گا۔اس پر دوبارہ مشورہ کی ضرورت نہیں۔پس مشورہ صرف اس امر کے متعلق ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو ؟ مولوی محمد علی صاحب خود لکھتے ہیں کہ ”میاں صاحب نے میری باتوں کا جواب یہ دیا کہ ایک خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔جس کے ہاتھ پر دونوں فریق بیعت کرلیں۔اور جو وہ کے وہ مانیں اس صورت میں اتحاد رہ سکتا ہے "۔اس فیصلہ کن اور اصولی بات کا جو جواب مولوی محمد علی صاحب نے دیا وہ انہی کے الفاظ میں یہ تھا کہ دونوں فریق ایک آدمی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے۔اس لئے کہ میں کم از کم ایسے شخص کو اپنا مرشد نہیں مان سکتا۔جو اہل اسلام کی تکفیر کا فتوی دیتا ہو " F44 مگر حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے جواب دیا کہ اول تو ان امور اختلافیہ میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا اختلاف ہمیں ایک دوسرے کی بیعت سے روکے۔لیکن ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔اس کے بعد مولوی صاحب کا لکھا ہوا خفیہ ٹریکٹ بھی رات کے وقت قادیان میں پہنچ گیا۔جسے دیکھ کر آپ نے اور بھی درد دل سے رات کو بہت دعائیں کیں۔اور صبح روزہ بھی رکھا۔مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں سے گفت و شنید کا اب سرے سے کوئی فائدہ نہیں تھا مگر آپ نے سمجھوتہ کے لئے اپنی کوششیں برابر جاری رکھیں اور دوسرے دن ظہر کے بعد خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ افراد کو جمع کیا اور کافی اصرار کے بعد اس فیصلہ پر متفق کر لیا کہ اگر دو سرا فریق خلافت کو اصولاً تسلیم کرلے تو رائے عامہ سے خلیفہ کا انتخاب کر لیا جائے۔اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔مولوی محمد علی صاحب نے مصالحت کا یہ سب سے آسان طریق ماننے سے بھی انکار کر دیا اور کہا آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ یعنی وہ آپ ہی کو خلیفہ مقرر کریں گے۔اس طرح جب مصالحت کے