تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 102
تاریخ احمدیت جلد ۴ 94 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت خلیفہ اول کے بعد کوئی خلیفہ نہ ہو۔تا سارے اختیارات مطلق العنانی کے ساتھ اُنہیں کے قبضہ میں رہیں۔تاہم آپ اصلاح احوال میں مصروف رہے۔اور آپ نے ایک طرف یہ کوشش فرمائی کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اگر انکار خلافت سے باز آجا ئیں تو انہی میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔اور دوسری طرف اپنے رفقاء کو نصیحتیں کیں کہ خلافت کا پرچم قائم اور جماعتی اتحاد بر قرار رکھنے کے لئے کسی ایک ہاتھ پر جمع ہونے کا فیصلہ کر لیں۔خواہ وہ کسی فریق سے تعلق رکھتا ہو اور اپنے خطبات میں سب کو دعاؤں میں برابر مصروف رہنے کی تلقین و تاکید فرمائی۔چنانچہ ۱۳/ مارچ ۱۹۱۴ء کو آپ نے اپنے خطبہ جمعہ میں جو زمانہ خلافت اوٹی میں آپ کا آخری خط به ثابت ہوا۔آخری نصیحت یہ فرمائی۔خدائی تعالٰی عجیب عجیب نازک وقتوں میں انسان کی دستگیری کرتا اور مدد دیتا ہے اگر مشکلات کے وقت مدد دینے والی اور مصائب سے بچانے والی کوئی ہستی ہے تو وہ اللہ تعالی کی ہستی ہے وہ بڑی بڑی مشکلات کو حل کر سکتا ہے تم اگر اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف جاؤ گے تو تم یاد رکھو کہ تم مشرک ہو پس تم اس کی طرف جھک جاؤ اور اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔تاکہ وہ اس مشکل میں تمہاری مدد کرے۔دعا کرنے کی توفیق بھی اس کی طرف سے ملتی ہے۔وہ ہمیں قبول ہونے والی دعا کرنے کی توفیق عنایت فرما دے اور وہ ہمیں رشد و ہدایت کا راستہ دکھلا دے EI- حضرت خلیفہ اول کا وصال دعا اور روزہ کی ۱۳/ مارچ ۱۹۱۴ء کو نماز جمعہ پڑھانے کے بعد تحریک اور مفاہمت کی آخری کوشش آپ مسجد اقصیٰ سے تھوڑی دیر کے لئے گھر تشریف لے گئے۔حضرت خان محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ کا ایک ملازم آپ کو لے جانے کے لئے گاڑی لایا۔اور آپ فورا روانہ ہو گئے مگر ابھی راستہ میں ہی تھے کہ حضرت خلیفہ اول کے فوت ہو جانے کی اطلاع ملی - انا للہ و انا الیه راجعون یہ خبر اس وقت کی سرگرمیوں کے لحاظ سے ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی۔ایک تو آپ کو اپنے استاد معظم حضرت خلیفہ اول کی وفات پا جانے کا صدمہ عظیم اور دوسرے انکار خلافت کرنے والوں کی وجہ سے جماعت میں تفرقہ پیدا ہو جانے کا خوف! آپ غم سے نڈھال ہو کر حضرت خلیفہ اول کی نعش مبارک تک پہنچے اور کچھ وقت بعد نماز عصر کے لئے مسجد نور میں آگئے اور ایک درد انگیز تقریر فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ " حضرت خلیفہ اول کی وفات کے ساتھ ہم پر ایک ذمہ داری رکھی گئی ہے۔جسن کے پورا کرنے کے لئے سب جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے اور آج سے ہر ایک شخص نمازوں میں اور [