تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 95
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 87 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت تحمیل و تشہیر میں سستی تباہی کی علامت ہے "۔وہلی کے رسالہ ” نظام المشائخ " (مارچ ۱۹۱۱ء) میں آپ کا ” خاتم النبین " پر لطیف مضمون ایک لطیف مضمون شائع ہوا۔جس میں آپ نے نہایت جامعیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے مقام ختم نبوت پر اچھوتے انداز میں روشنی ڈالی۔اوائل 1911ء میں حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کالج ایک پرائیویٹ کلاس سے آئے تو آپ نے ان کی تعلیم کے لئے ایک پرائیوٹ کلاس جاری فرمائی جس میں آپ نے خطبہ الہامیہ دروس النحویہ حصہ دوم وغیرہ پڑھایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب بھی شامل ہوتے تھے۔لیکچر بٹالہ / مئی 1911ء کو احمدیہ انجمن بٹالہ کا پہلا سالانہ جلسہ تھا جس میں آپ کے دو لیکچر ہوئے (1) " حقیقی مذہب کونسا ہے؟" (۲) " ضرورت امام " یہ مضمون آپ نے ایسے موثر اور پر جوش طریق سے بیان فرمایا کہ بعض آنکھیں بے اختیار پر نم ہو گئیں۔پادری ینگسن سے مذہبی گفتگو حضرت خلیفہ اول کے ارشاد اور مشورہ کے ماتحت آپ جون 1911ء میں ڈلہوزی تشریف لے گئے جہاں آپ کی ایک پادری ینگسن نامی سے ملاقات ہوئی آپ نے دو گھنٹہ تک مسئلہ تثلیث پر گفتگو فرمائی۔پادری صاحب آپ کے سوالات و استدلال کے سامنے دم بخود رہ گئے۔اس گفتگو کی تفصیل آپ نے ڈلہوزی سے واپس آکر پہاڑی وعظ " کے نام سے شائع کرادی تھی۔بطور نمونہ اس گفتگو کا آخری حصہ ذیل میں لکھا جاتا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب۔انجیل کو انسان تب مانے جب اصول مسیحیت ثابت ہو جائیں ان مسائل کے حل ہونے سے پہلے انسان انجیل کو کب مان سکتا ہے۔پادری صاحب جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے انجیل کے ماننے سے پہلے ان مسائل کا سمجھنا مشکل ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب بہت اچھا آپ اس مسئلہ کو تو عقلی طور پر حل نہیں کر سکتے۔یہی فرمائیے موجودہ زمانے میں اس تمام دنیا کا نظام کس کے سپرد ہے خدا باپ کے یا خدا بیٹے کے؟ پادری صاحب - انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات کا انتظام مسیح یعنی بیٹے کے سپرد ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب تو کیا خدا باپ دنیا کو کلمہ کی معرفت پیدا کرنے کے بعد خالی بیٹھا ہے۔پادری صاحب نہیں صفات الہیہ کا تعطل تو جائز نہیں تمام جہان کا انتظام وہی کرتا ہے۔