تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 93 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 93

تاریخ ا 85 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت ذکر شروع کیا کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت بیمار اور کمزور ہے ہم لوگ یہاں ٹھر تو سکتے نہیں لاہور واپس جانا ہمارے لئے ضروری ہے پس اس وقت دوپہر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہو جائے کہ فتنہ نہ ہو اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے کم سے کم میں اپنی ذات کی نسبت تو کہہ سکتا ہوں کہ مجھے خلافت کی خواہش نہیں ہے اور مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں۔اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے۔اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اس وقت تک نہ ہونے دیں جب تک ہم لاہور سے نہ آجادیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو - ہمارا انتظار ضرور کر لیا جاوے میر صاحب نے تو ان کو یہ جواب دیا کہ ہاں جماعت میں فساد مٹانے کے لئے کوئی تجویز ضرور کرنی چاہئے مگر میں نے اس وقت کی ذمہ داری کو محسوس کر لیا۔اور صحابہ کا طریق میرے سامنے آگیا۔کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لئے ہی کیوں نہ ہو نا جائز ہے پس میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق محسین کر دینی اور فیصلہ کر دیتا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہو گناہ ہے۔میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں " 1910ء میں آپ کے قلم سے " تشمیذ الا زبان میں " تشخیز الاذہان میں بلند پایہ مضمون مندرجہ ذیل مضامین نکلے۔" انبیاء اور جمین میں فرق " - " نجات کا فلسفہ " - (کئی قسطوں میں) " نشان آسمانی" (حضرت خلیفہ اول کے گھوڑے ۲۶۵ سے گرنے سے متعلق) دین کو دنیا پر مقدم کرو"۔حضرت مولوی سید محمد احسن کی شہادت جنوری 1911ء کا ذکر ہے کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے مسجد اقصیٰ میں خطبہ جمعہ کے دوران آپ کا ذکر کر کے بڑے زور دار الفاظ اور پُر جوش لہجہ میں فرمایا کہ۔حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے ہماری جماعت کے وہ امام ہیں اور انہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں ایسی غیر معمولی ترقی کی ہے جیسے کہ الہام میں تھی۔اور میں نے تو ارہاص کے طور پر یہ سب آثار مشاہدہ کئے ہیں اس لئے میں مان چکا ہوں کہ یہی وہ فرزند ارجمند ہیں جن کا نام محمود احمد سبز اشتہار میں موجود