تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 92
تاریخ احمد بیت - جلد - 84 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ۲۴ جولائی ۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفتہ المسیح اول ملتان امیر مقامی قادیان کی حیثیت میں تشریف لے گئے تو صاحبزادہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب کو جماعت احمدیہ قادیان کا امیر مقرر فرمایا۔۲۹ / جولائی ۱۹۱۰ ء کو آپ نے پہلی مرتبہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا - سب سے پہلا خطبہ جمعہ ۲۶ اگست ۱۹۱۰ء کو حضرت حضرت خلیفہ اول کی نماز جمعہ آپ کی اقتداء میں خلیفہ اول نے آپ کی اقتداء میں نماز جمعہ ادا فرمائی۔مدرسہ احمدیہ کے منتظم کی حیثیت میں تمبر 1912ء سے مارچ ۱۹۱۳ء تک مدرسہ احمدیہ کے منتظم رہے اور اس قومی درسگاہ کی ترقی و بہبود کے لئے ہر ممکن جدوجہد فرمائی۔احمدیوں کے خلاف ایک فتویٰ کفر شائع ہوا جس پر آپ نے اخبار میں ایک فتوی کفر کا جواب مضمون شائع فرمایا جس کا عنوان تھا۔" کمفرین کے اشتہار کا جواب " - ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفہ اول خلافت کی پیشکش اور آپ کا مومنانہ جواب گھوڑے سے گر پڑے تو آپ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو امام الصلوۃ مقرر فرما دیا۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری نازک صورت پکڑ گئی تو انجمن والوں نے آپ کو خلافت کی پیش کش کی۔مگر آپ نے انتہائی جرأت اور ایمانی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اسے فور ارد کر دیا۔چنانچہ فرماتے ہیں۔1910ء کے آخری مہینوں میں حضرت خلیفتہ المسیح گھوڑے سے گر گئے اور کچھ دن آپ کی حالت بہت نازک رہی۔حتی کہ آپ نے (ڈاکٹر) مرزا یعقوب بیگ صاحب سے جو اس وقت آپ کے معالج تھے دریافت کیا کہ میں موت سے نہیں گھبرا تا آپ بے دھڑک طبی طور پر بتادیں کہ اگر میری حالت نازک ہے تو میں کچھ ہدایات وغیرہ لکھوا دوں مگر چونکہ یہ لوگ حضرت مولوی صاحب کا ہدایات لکھوانا اپنے لئے مضر سمجھتے تھے آپ کو کہا گیا کہ حالت خراب نہیں ہے اور اگر ایسا وقت ہوا تو وہ خود بتادیں گے مگر وہاں سے نکلتے ہی ایک مشورہ کیا گیا اور دوپہر کے وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ میرے پاس آئے۔کہ ایک مشورہ کرتا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں۔میرے نانا جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں بلوایا گیا تھا۔جب میں وہاں پہنچا تو مولوی محمد علی صاحب۔خواجہ صاحب مولوی صدر الدین صاحب اور ایک یا دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے خواجہ صاحب نے !