تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 87
تاریخ احمدیت جلد ۴ 79 مید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت بھائی بہنوں سمیت دہلی تشریف لے گئے اور دریا گنج میں مقیم ہوئے Hang - آپ نے اپنے اس تبلیغی سفر کے حالات انہی دنوں الحکم (۷/۱۴ مئی ۱۹۰۹ء) میں شائع کر دیئے تھے جو نہایت دلچسپ معلومات افزا اور قابل دید ہیں۔اسی سفر میں (۹/ اپریل کو) آپ کا اسلام اور آریہ مذہب پر پہلا لیکچر بھی ہوا۔چھ سات سو آدمی لیکچر سننے آئے جن میں دہلی کے رو سا بھی تھے۔دہلی میں آپ نے دوسرا لیکچر اسلام اور عیسائیت " پر دیا۔یہ لیکچر ۱۶ / اپریل کو ہوا۔(چوہدری غلام قادر صاحب نمبردار اوکاڑہ کی روایت کے مطابق ایک جلسہ کی صدارت دلی کے مشہور صوفی وادیب جناب خواجہ حسن نظامی نے کی تھی 1 اس سفر میں آپ نے اپنے نہیال کو بھی احمدیت سے متعارف کرایا۔آپ نے دہلی سے روانگی کے وقت ان الفاظ میں دعا کی کہ خداوہ دن لائے کہ اس شہر کو بھی خدا ہدایت دے اور اس مٹی سے پھر کسی دن اس قسم کے برگزیدہ لوگ پیدا ہوں جن کے مزار بکثرت وہاں پائے جاتے ہیں"۔سفر دہلی کے دوران میں آپ کپور تھلہ ، لاہور، قصور اور فیروز پور بھی تشریف لے گئے اور کامیاب لیکچر دیئے۔آپ نے کشمیر کی طرف پہلا سفر جولائی 1999ء میں فرمایا۔اس سفر میں ایک واقعہ ایسا ۱۴۴۴ سفر کشمیر پیش آیا جس نے آپ کے دل میں اہل کشمیر کی درد ناک اور قابل رحم حالت کا نقش ایسا گہر ا جما دیا جسے آپ آج تک فراموش نہیں کر سکے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔1909ء میں میں کشمیر گیا۔تو ایک مقام سے چلتے وقت میں نے تحصیلدار سے کہا کہ ہمارے لئے کسی مزدور کا انتظام کر دیا جائے اس نے رستہ میں سے ایک شخص کو پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دیا کہ اس کے سر پر اسباب رکھوا دیں۔ہم نے اسے سامان دے دیا مگر ہم نے دیکھا کہ وہ راستہ میں بار بار ہائے ہائے کرتا ہے۔آخر ایک جگہ پہنچ کر اس نے تھک کر ٹرنک نیچے رکھ دیا میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے اس سے کہا کہ کشمیری تو بہت بوجھ اٹھانے والے ہوتے ہیں تم سے یہ معمولی ٹرنک بھی نہیں اٹھایا جاتا وہ کہنے لگا میں مزدور نہیں ہوں میں تو زمیندار ہوں۔اپنے گاؤں کا معزز شخص ہوں اور دولہا ہوں جو برات میں جارہا تھا کہ مجھے راستہ میں تحصیلدار نے پکڑ لیا اور اسباب اٹھانے کے لئے آپ کے پاس بھیج دیا۔میں نے اس وقت اسے چھوڑ دیا کہ تم جاؤ ہم کوئی اور انتظام کرلیں گے میں نے خود کشمیر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سو دو سو کے قریب مسلمان جمع ہیں اور ایک ہندو انہیں ڈانٹ رہا ہے اور وہ بھی کوئی افسر نہیں تھا۔بلکہ معمولی تاجر تھا اور وہ سارے کے سارے مسلمان