تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 86
تاریخ احمدیت جلد ۴ 78 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت صاحب نے مجھے کہا کہ میر صاحب! آپ میاں صاحب یعنی میرزا محمود احمد ایدہ اللہ تعالی) اور اکمل کی پارٹی میں بہت بیٹھا کرتے ہیں۔ذرا پتہ لگا ئیں کہ یہ بدر میں آج کل کو کل بلبل اور فاختہ کیسی اڑتی ہیں اس زمانے میں قاضی اکمل صاحب کی اس قسم کی اکثر نظمیں شائع ہوتی تھیں۔چنانچہ میں رات دن اس امر کی تلاش میں رہتا کہ مجھے کوئی بات مل جائے۔تو میں پیغام پارٹی کو اطلاع دوں۔مگر میں جس قدر حضرت میاں صاحب کی صحبت میں رہا۔کو نوامع الصادقین کا کرشمہ مجھے پر اثر کرتا چلا گیا۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ میاں محمود احمد صاحب ، میاں محمد الحق صاحب اور قاضی اکمل مل کر کوئی خاص ایجی ٹیشن پھیلا رہے ہیں۔کیونکہ ان دنوں میں میاں محمد اسحق صاحب نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا خلیفہ انجمن کے ماتحت ہے یا انجمن خلیفہ کے ماتحت ہے گو میاں محمد اسحق صاحب کم عمر تھے مگر ان کا دماغ اور ذہن بڑے غضب کا تھا۔غرضیکہ حضرت مسیح موعود۔یہ السلام کے مصاحب اور رشتہ دار اور اولاد ہر ایک اس قدر گہرے طور پر حضرت صاحب کے رنگ میں رنگین ہو گئے تھے کہ بے انتہاء جستجو کے بعد بھی کوئی آدمی ان میں کوئی عیب نہ نکال سکتا تھا " " خلافت سے غیر متزلزل وابستگی آپ کا سب سے بڑا جرم صرف ایک تھا اور وہ یہ کہ خلافت سے آپ کی وابستگی غیر متزلزل تھی اور نہ صرف تنہا ہونے کے باوجود آپ انجمن کے ممبروں کے سامنے کلمہ حق کہنے سے باز نہ رہتے تھے بلکہ اگر خلیفہ وقت کے خلاف کوئی خاص بات آپ کے علم میں آتی تو آپ حضرت خلیفہ اول کو اس سے ضرو ر با خبر کر دیتے تھے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح اول ان کے چھ سالہ عہد خلافت میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب انجمن پر قابض تھے یہ بسا اوقات حضرت خلیفتہ اصبح اول یہ کے خلاف باتیں کرتے اور جب وہ آپ کے لئے اور سلسلہ کے لئے نقصان دہ ہوتیں تو میں آپ کو بتا دیتا۔اس پر میگوئیاں بھی ہو تیں میرے خلاف منصوبے بھی ہوتے پھر میں اکیلا تھا اور ان کا ایک جبتہ تھا۔مگر اس چھ سال کے عرصہ میں کبھی ایک منٹ کے لئے بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ میں ان باتوں کو چھپاؤں پھر میں اگر وہ باتیں بتاتا تھا۔تو اس لئے نہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول ان پر احسان جتاؤں بلکہ اس لئے کہ میں اخلاق اور روحانیت کے قیام کے لئے ان باتوں کے انسداد کی ضرورت سمجھتا تھا" چه اپریل ۱۹۰۹ء میں آپ حضرت ہندوستان کے پائے تخت دہلی میں پیغام حق پہنچانا ام المومنین اور اپنے دو سرے