تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 82
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 74 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت رکھ کر سوار ہو جائیں چنانچہ حضور نے میری عرض قبول فرمائی اور اسی طریق سے یکہ پر سوار ہو گئے۔اس خواب کے ماتحت میں نے یہ ٹانگہ بنوایا ہے اور دانستہ اس میں پائیدان نہیں لگوایا اب میں جھکتا ہوں اور حضور میری پیٹھ پر پاؤں رکھ کر سوار ہو جائیں تاکہ میرا خواب پورا ہو جائے۔محض بابا شیر محمد صاحب کی اس رویا کی بناء پر آپ نے ان کی پشت پر قدم رکھا اور سوار ہو گئے۔اور میں بھی شریک سفر ہو گیا۔باقی سب دوست واپس ہو گئے۔اس یکہ میں ہم تین سواریاں اور چوتھے بابا شیر محمد صاحب یکہ چلانے والے تھے۔بنگہ سے نواں شہر تک سفر میں دونوں بزرگوں کا یہ شغل رہا کہ پہلے حضرت صاحبزادہ صاحب سورہ ق تلاوت کر کے حضرت میر صاحب کو سناتے پھر حضرت میر صاحب یہی سورۃ حضرت صاحبزادہ صاحب کو سناتے۔اسی طرح سارے سفر میں ایک دوسرے کو سناتے رہے۔یہاں تک کہ نواں شہر پہنچ گئے وہاں کا ٹھ گڑھ کی جماعت کے دوست گھوڑیاں لے کر آئے ہوئے تھے۔وہاں ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے یہ دونوں بزرگ کا ٹھ گڑھ کے لئے روانہ ہو گئے اور میں واپس را ہوں چلا گیا "aa حضرت صاحبزادہ سید نا محمود ایدہ اللہ تعالی کاٹھ گڑھ میں چند روز ٹھہرنے کے بعد واپسی پر کریام۔لنگڑوعہ اور راہوں میں دوستوں کے اصرار پر تھوڑا تھوڑا وقت ٹھرتے ہوئے دوبارہ بنگہ میں وارد ہوئے - بنگہ میں مختصر قیام فرمایا پھر قادیان کے لئے روانہ ہو گئے۔۲۲ سالانہ جلسه ۱۹۰۸ء پر تقریر خلافت اوٹی کے پہلے سالانہ جلسہ منعقدہ دسمبر ۱۹۰۸ء) پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک پر معارف تقریر فرمائی جس کا عنوان تھا ” ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں "۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اپنے ایک مضمون میں اس تقریر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یه جلسه مدرسہ احمدیہ کے صحن میں منعقد ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول حضور کے ذائیں جانب اسٹیج پر رونق افروز تھے اسٹیج کا رخ شمال کی جانب تھا۔اس تقریر سے متعلق دو باتیں خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔اول عجیب بات یہ تھی کہ اس وقت آپ کی آواز اور آپ کی ادا اور آپ کا لہجہ اور طرز تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز اور طرز تقریر سے ایسے شدید طور پر مشابہ تھے کہ اس وقت سننے والوں کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا ہم سے جدا ہوئے تھے یاد تازہ ہو گئی۔اور سامعین میں بہت ایسے تھے جن کی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس آواز کی وجہ سے جو ان کے پسر موعود کے ہونٹوں سے اس وقت اس طرح پہنچ رہی تھی جس طرح گراموفون سے ایک نظروں سے غائب انسان کی پہنچتی ہے آنسو جاری ہو گئے اور آنسو بہانے والوں میں ایک خاکسار بھی تھا۔اگر یہ کہنا درست ہے کہ انسان کی