تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 79 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 79

تاریخ احمدیت۔جلد ہم 71 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع قبل از خلافت خیال کرتا تھا کہ آپ کو زندہ رہنا چاہئے اور قلوب کی اس کیفیت کی وجہ سے نہ ہمیں اس کا خیال تھا اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری تھی کہ آپ فوت ہو گئے " 2 ۲۱۵ ۲۱۴ نیز فرماتے ہیں۔"جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب لوگ آپ پر طرح طرح کے اعتراض کریں گے اور بڑے زور کی مخالفت شروع ہو جائے گی۔اس وقت میں نے سب سے پہلا کام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر کیا وہ یہ عہد تھا کہ اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہیں کروں گا"۔اس عظیم الشان عمد پر آج چھپن سال کا طویل عرصہ بیت رہا ہے۔سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز نے مخالفتوں، شورشوں اور فتنوں کے باوجود اپنے عہد کو آج تک جس حسن و خوبی سے نباہا ہے تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔نظریات و معتقدات سے اختلاف دو سرا امر ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ نے اپنے عہد کو نباہنے کا حق جیسا کہ چاہیے تھا فی الحقیقت ادا کر دیا ہے۔یہ مقدس عمد گویا ایک روحانی پیج تھا جو خدائے تدرس و مقتدر نے آپ کے دل میں بویا۔خلافت اولی کے زمانہ میں یہ بیج بڑھا پھولا اور پھلا اور بالآخر خلافت ثانیہ میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک تناور درخت بن گیا۔