تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 644 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 644

609 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال و تفاوت موجود ہے لیکن ان اختلافات کے باوجود ہم اس فرقہ کی بعض قابل قدر خدمات اسلامی کا تہ دل سے اعتراف کرتے ہیں۔امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مقدمہ راجپال کے فیصلہ کے متعلق نہ صرف ہندوستان میں ہی مسلمانوں کی ہم آہنگی اختیار کی بلکہ مسجد لنڈن کے امام مولوی عبدالرحیم درد کو اس قسم کی ہدایات بھی بھیج دیں کہ جہاں تک ہو سکے اس سلسلہ میں مسلمانوں کی شکایات کو پارلیمنٹ تک پہنچادو اور انگلستان میں بھی اس جدوجہد کی بنیاد رکھ دو۔جس نے آج مسلمانان ہند کو آتش زیر پا کر رکھا ہے ان ہدایات کا نتیجہ یہ ہوا کہ درد صاحب نے نہایت ہی دردمندی اور انہماک سے کام شروع کر دیا اور اب تک جو اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض معززین انگلستان اور مسلمانان مقیم برطانیہ کے دستخطوں سے وزیر ہند کو بھیجنے کے لئے ایک محضر نامہ تیار ہو رہا ہے جس پر دو سو سے زائد دستخط کرنے والوں میں چینی ، ہندوستانی ایرانی افغانی اور برطانوی مسلمانوں کے علاوہ سر آتھر کانن ڈائل اور سرولیم سمپسن جیسے معزز اور نامور انگریز بھی شامل ہیں اس محضر نامہ میں راجپال کی کتاب اور مقدمہ راجپال کے خلاف شدید نفرت اور حقارت کا اظہار کیا گیا۔اس کے علاوہ مانچسٹر گارڈین نے اس مسئلہ پر ایک افتتاحیہ لکھا ہے جس میں بتایا ہے کہ حالات موجودہ میں اس قسم کی قابل اعتراض تحریروں کی اشاعت سخت خطرناک فسادات کا باعث ہو سکتی ہے یہ بھی مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور سردار اقبال علی شاہ صاحب احمدی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔تازہ خبر یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے کسی رکن نے راجپال کے مقدمہ کے متعلق ایک سوال بھی کر دیا ہے جس کے جواب میں ارل ونٹرٹن نے اعلان کیا ہے کہ عدالت عالیہ اس قسم کے مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے اگر اس کا فیصلہ خاطر خواہ نہ ہوا تو اس قسم کی مطبوعات کے انسداد کے لئے قانون میں ترمیم کیجائینگی ہمیں یقین ہے کہ احمدیوں کی مساعی جمیلہ جاری رہیں گی اور دوسرے مسلمان بھی اس کام میں احمدیوں کی اعانت کریں گے۔یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں ایک ایسی قوی جماعت پیدا ہو جائے جو مسلمانوں کے مطالبات کی پورے زور سے حمایت کر سکے ہم ان بروقت خدمات کے لئے امام جماعت احمدیہ اور مولوی عبدالرحیم در د صاحب کے بہت شکر گزار ہیں"۔مقدمہ " ورتمان" کے تحفظ ناموس پیشوایان مذاہب کے لئے مکمل قانون کا مطالبہ فیصلہ + ثابت ہو جانے کے بعد کہ جسٹس کنور دلیپ سنگھ نے دفعہ ۱۵۳- الف کی جو تشریح کی ہے بالکل غلط ہے اس امر کی فوری ضرورت تھی کہ بزرگان مذاہب کی توہین کے انسداد کے لئے پہلے سے زیادہ واضح اور زیادہ مکمل قانون کا مطالبہ حکومت سے کیا جاتا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے 10 اگست