تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 78
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 74 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک گھر کے دروازے پر پہنچا تو میں دروازہ کی سیڑھیوں پر اوپر کھڑے ہو کر اس کو نیچے کی سیڑھی پر کھڑا کر کے باتیں کرنے لگا کہ اب یہ اطمینان سے چھری بھونک دیگا لیکن وہ تو اس قدر گھبرایا کہ اس نے مجھ سے کہا کہ اب اجازت دیجئے میں نے کہا۔اچھا" جب عوامی اشتعال کارگر نہ ہوا تو جامع مسجد میں آپ کو بلوا کر فتوی لگا کے شہید کر دینے کی ایسی زبر دست سازش کی کہ تحصیلدار بھی اس میں شامل ہو گیا۔آپ یہ واقعہ خود تحریر فرماتے ہیں ایک دفعہ وہاں کے علماء مباحثہ کے لئے جمع ہوئے وہاں کی جامع مسجد کو جو شیر شاہ کی بنوائی ہوئی ہے اکھاڑہ بنایا۔کئی قسم کی گفتگو کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ تم جو اولیاء کا پکارنا شرک کہتے ہو اگر علماء میں سے کسی نے ایسا لکھا ہو تو بلا گفتگو اس امر کو مان لیں گے بہت سے علماء تھے جن سے یہ پختہ اقرار کرایا گیا۔دوسرے دن آپ تفسیر عزیزی لے گئے اور اس میں سے و تبتل الیہ تبتیلا کا موقع ان کو دکھایا جہاں شاہ عبد العزیز صاحب تحریر فرماتے ہیں۔" بعضے پیر پرستان از زمره مسلمین در حق پیران خودا مراول را ثابت میکنند و در وقت احتیاج ہمیں اعتقاد با نما استعانت سے نمائیندا الخ۔اس کے لطیف جوابوں میں ایک شخص نے جو بڑے پیر بنے ہوئے تھے اور عالم بھی مشہور تھے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا آپ گھبرا کر کیوں بات کرتے ہیں۔یہاں کیا کوئی تمہارا دشمن ہے؟ دوسرے مولوی نے کہا کہ یہ لفظ پیران (بہائے فارسی) نہیں بلکہ بیران (بیائے موحدہ) ہے اور بیر ہنومان کو کہتے ہیں۔پھر آپس میں کچھ اشارے کر کے سب کھڑے ہو گئے معلوم ہوا کہ کوئی خاص منصوبہ انہوں نے تجویز کیا ہے۔اور اس لئے انہوں نے ایسی بھی کوشش کی تھی کہ وہاں آپ کے دوستوں سے ایک شخص بھی موجود نہ تھا آپ اس وقت اپنے دل میں یہ دعا مانگ رہے تھے عزت بر بی و ربکم ان ترجعون۔اس مسجد جامع میں ایک منبر تھا ایک مولوی اس پر جا کھڑا ہوا۔ایک دنیا دار آدمی جس کو آپ کے خسر سے محبت تھی اس عظیم الشان از دهام اور کہرام میں آپ کے پاس سے یہ کہتا ہوا گذر گیا کہ "اگر یہ وقت مل جائے تو پھر ہم انتظام کر سکتے ہیں۔" جب مولوی کھڑا ہوا تو آپ کو یقین ہو گیا کہ اب یہ کسی قسم کا فتویٰ دیگا اور اس فتوے کی حقیقت آپ کو معلوم نہ تھی آپ کے داہنی طرف شہر کے تحصیلدار کھڑے تھے ان کا نام را مد اس تھا اور ان کے داہنے ہاتھ پر تھانیدار تھے۔اور تھانیدار کے دہنے اور پیچھے بہت سے سپاہی تھے باقی ہزارہا مخلوق ان کے پیچھے تھی۔اس تھانہ دار کا نقار تو صحیح تھا کیونکہ مولوی آپ کے مخالف تھے لیکن آپ کو بڑا تعجب ہوا جب کہ تحصیلدار نے آپ کو دھمکی دی اور کہا کہ آپ کی نسبت جو یہ محض فتوی دینے لگا ہے اس میں یہ شخص مختار ہے یہ سنتے ہی میں نے خدا تعالیٰ سے تائید پا کر اپنی پوری طاقت سے تحصیلدار کی رگ گردن کو جو شہ رگ کہلاتی ہے انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے اس طرح دبایا کہ تحصیلدار صاحب کی شیخ