تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 74
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 70 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک الغرض دیار حبیب کے فیوض و برکات سے مالا مال ہو کر اور دوبار مکہ سے وطن کو مراجعت شرف حج حاصل کر کے آپ مکہ معظمہ سے جدہ اور جدہ سے بذریعہ جہاز بمبئی پہنچے۔یہاں آپ کو ایک میاں بیوی کے حالات سن کر جن کو آپ نے مکہ میں بھی دیکھا تھا شدید احساس ہوا کہ بیوگان کو بٹھارکھنا بڑے تلخ نتائج پیدا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جن کے گھر میں جو ان بیوہ عورتیں بیٹھی ہیں۔یہ توفیق دے کہ ان کا نکاح استخارہ کر کے کر دیں۔ہمی سے ریل پر سوار ہو کر دہلی آئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا دہلی میں درس و تدریس جاری تھا۔اور غالبا یہی موقعہ تھا یا ۱۸۷۷ کا اوائل جب کہ آپ کو بھی ان کی مجلس میں شامل ہونے کا موقعہ ملا چنانچہ خود ہی بیان فرماتے ہیں۔میں نے مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب کو دیکھا ہے بڑے تیز آدمی تھے۔فلسفیانہ طبع تھی ہر سوال کا جواب فور ا دیتے تھے۔دیانند ان کے مقابلہ میں آنے سے ڈرتا تھا ایک دفعہ حدیث پڑھا رہے تھے ایک حدیث میں آیا کہ آخری زمانہ میں مال کم ہو گا اور اس کے بعد ایک اور حدیث آئی کہ کسی جگہ سونا نکلے گا۔میں نے چاہا کہ سوال کروں ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ حضور پہلی " تو فورا سمجھ گئے اور جھٹ جواب دیا کہ میاں کیا تم نے چراغ بجھتا ہوا نہیں دیکھا۔میں بھی جواب سمجھ گیا اور خاموش ہو گیا۔مطلب یہ تھا کہ سمجھتے بجھتے چراغ کی روشنی یکدفعہ آخر میں اٹھتی ہے یہ آخری جوش ہے دہلی میں آپ کو اپنے طبیب استاد (مولوی حکیم علی حسین صاحب لکھنوی) سے بھی اچانک ملاقات ہو گئی انہوں نے پوچھا کہ تم حرمین سے کیا کیا لائے؟ آپ نے بعض لطیف کتابوں کا ذکر کیا جو آپ لائے تھے کہنے لگے وہ سب مجھے دیدے۔آپ نے انشراح صدر سے فرمایا کہ وہ تو آپ ہی کی چیز ہے لیکن میں نے صندوق بذریعہ ریل لاہور بھجوا دیئے ہیں۔میں لاہور سے وہ صندوق آپ کی خدمت میں بھجوادوں گا۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی لاہور دیکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ خوشی خوشی ان کی رفاقت میں لاہور تشریف لائے اور بہت سے مقامات کی ان کو سیر کرائی آپ صندوق لینے کے لئے اسٹیشن کو جانے لگے تو انہوں نے اپنا نو کر بھیج کر صندوق منگوا لئے اور ان کا محصول بھی اپنی گرہ سے ادا کر دیا۔پھر کہا کہ یہ ہم نے صرف اس لئے کیا ہے کہ کچھ ہمار ا حصہ بھی ان میں شامل ہو جائے در اصل بات یہ تھی کہ اس وقت آپ کی جیب میں اتنے روپے ہی نہیں تھے کہ ان صندوقوں کا کرایہ ریل ادا کر سکتے مگر خدا تعالیٰ نے خود ہی ایسا سامان کیا کہ آپ نے تو اس کا ذکر تک کسی سے نہ کیا اور بمبئی سے لاہور تک کے اخراجات آپ کے استاد نے از خود ادا کر دیئے کو ذالك فضل الله يو تيه من يشاء۔بہر حال آپ اپنے استاد کو رخصت کر کے شہر لاہور میں داخل ہوئے تو بھیرہ کا ایک ہندو مل گیا جس