تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 73
تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 69 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک اور ان دنوں اس طبقہ سے آپ کو نفرت تھی۔جب آپ مکہ معظمہ کے قریب پہنچے تو آپ کو خیال آیا کہ حضرت نبی کریم کداء مقام کی طرف سے مکہ میں داخل ہوئے تھے لیکن آدمیوں کی بار برداریاں اور سواریاں اس راستہ نہیں جاتی تھیں اس لئے جہاں دوسرے لوگ معروف رستہ سے آگے بڑھے وہاں آپ ز طوئی مقام سے ذرا آگے بڑھ کر اونٹ سے کود پڑے اور آخضرت ﷺ کی سنت مبارکہ کے مطابق کداء ہی کے رستہ سے مکہ میں داخل ہوئے۔مکہ معظمہ میں جہاں آپ فرد کش تھے آپ مکان ہی سے احرام باندھ کر عمرہ کر لیا کرتے تھے جن کے گھر میں رہتے تھے وہ ایک بوڑھا مخدوم تھا۔اس نے بار بار وہاں احرام باندھتے ہوئے دیکھ کر کہا کہ آپ تنعیم سے جہاں سے تمام اہل مکہ احرام باندھتے ہیں کیوں احرام نہیں باندھتے آپ نے کہا کہ تنعیم میں جاکر احرام باندھنا بیہودہ بات ہے اس نے گھبرا کر کہا کہ آپ تمام شہر کے خلاف کرتے ہیں۔آپ نے بڑی جرات سے فرمایا کہ ان کی میں ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا۔جب کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مکہ والے اپنے گھروں سے احرام باندھ سکتے ہیں۔میرا عمل تمام شہر مکہ کے خلاف تو نہیں ہاں گدھے والوں کے خلاف ہے کیونکہ ان کے کرایہ میں کمی ہوتی ہے یہ بات سن کر وہ ہنس پڑا اور خاموش ہو گیا۔☑ شرف حج اور اس کے تاثرات آپ قبل از میں ایک بج کر بیچکے تھے اس سال آپ دوسری دفعہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے جس سے روحانی انوار و برکات بھی آپ کو حاصل ہوئے اور حج کا فلسفہ اور بے شمار فوائد پر بھی حق الیقین ہوا پھر جوں جوں عمر اور تجربہ اور روحانیت میں اضافہ ہو تا گیا یہ بصیرت و معرفت بھی بڑھتی چلی گئی۔چنانچہ آپ نے بعد میں خود ہی ان باطنی مشاہدات کا تذکرہ بڑے روح پرور الفاظ میں ایک لطیف مضمون میں کیا ہے مضمون کیا ہے حقائق و معارف کا بحرز خار اور تصوف اسلامی کا نچوڑ ہے۔حج سے آپ کو ایک نکتہ معرفت یہ بھی حاصل ہوا کہ چونکہ ہر سال نئے حاجی آتے ہیں اور وہ بہت جلد چلے جاتے ہیں۔اس واسطے وہاں کے لوگوں کو کسی کامل انسان سے بھی کچی محبت نہیں ہو سکتی وہاں ہر روز نئے مہمان آتے اور جاتے ہیں اگر وہ شدید محبت کسی سے کریں تو پھر تو ان کی ہلاکت ہے۔آپ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ وہاں جناب الہی کی محبت کے واسطے خالص سامان مہیا ہے انسانی محبتیں کوئی چیز نہیں