تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 72
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 68 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک حضرت شاہ ولی اللہ سے حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی نے روایت سنی ان سے شاہ اسحاق نے ااور حضرت شاہ اسحاق سے حضرت شاہ عبد الغنی مجددی نے اور ان سے حضرت مولانا نور الدین صاحب تک پہنچی آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے من حفظ على امتى اربعين حديثا في امر دينها بعثه الله تعالى فقيها و كنت له يوم القيامة شافعا و شهيدا یعنی جس شخص نے میری امت کے لوگوں کو سنانے اور سمجھانے کے لئے چالیس حدیثیں یاد رکھیں جو دین کے بارے میں ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن فقہاء وعلماء کے زمرہ میں داخل کرے گا اور میں اس کی سفارش بھی کروں گا اور اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا۔اس حدیث کے مطابق حضرت مولوی نور الدین خلیفہ اول نے نہ صرف یہ احادیث خود یاد کیں بلکہ ان کو اپنے بعض شاگردوں تک بھی پہنچایا۔چنانچہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا بیان ہے کہ ایک دفعہ مجھے حضرت خلیفہ المسیح اول حضرت مولوی حکیم نور الدین اللہ نے اپنے شفا خانہ میں فرمایا۔کہ آنحضرت میر کی چالیس حدیثیں ایسی ہیں جو زبانی مجھ تک پہنچی ہیں آؤ میں وہ تمہیں سناؤں۔۔۔۔آپ نے پہلے اپنے سے آنحضرت ال تک کے راوی بیان فرمائے پھر وہ چالیس حدیثیں مجھے ایک ایک کر کے سنائیں اور ان کے معنی بتائے اور ان کی مختصر تفسیر فرمائی۔پھر مجھے ان حدیثوں کے حفظ کرنے کی ہدایت کی۔جس پر میں نے وہ حدیثیں اسی زمانہ میں یاد کر لیں۔۔۔۔۔یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں پیش آیا اور حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب نے اپنے مطب کے مشرقی دروازہ میں بیٹھ کر ظہر کی نماز کے بعد جب کہ حافظ روشن علی صاحب بھی موجود تھے۔مجھے ان حدیثوں کا راوی بنایا اور اس وقت کی بات سے مترشح ہو تا تھا کہ حافظ صاحب کو بھی حضرت مولوی صاحب اس سے قبل ان حدیثوں کا ر ا دی بنا چکے تھے۔مدینہ میں کچھ عرصہ گذار کر حضرت مولوی نور الدین صاحب مکہ معظمہ میں دوسری بار مدینہ سے دوبارہ عازم مکہ ہوئے یہ ۸۶-۱۲۸۵ھ یا ۶۹ - ۶۱۸۶۸ کی بات ہے اور حج کے مہینے تھے۔مکہ کے رستہ میں ایک جگہ آپ نے ڈیرا کیا۔ساتھ ہی ایک عظیم الشان خیمہ نصب تھا جس میں مقلد اور غیر مقلد مسئلہ تقلید پر الجھے ہوئے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے جو اس وقت خیمہ سے باہر ہی کھڑے یہ بحث سن رہے تھے بلند آواز سے فرمایا کہ جب ایک مسئلہ میں اتنے بڑے علم کی ضرورت ہے تو ایک امام کو دوسرے امام پر تمام مسائل میں ترجیح دینے کے لئے لاکھوں علوم کی ضرورت ہوگی۔آپ کی اس آواز نے سب پر بجلی کا سا کام دیا مگر وہ لوگ۔۔۔امراء تھے