تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 71 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 71

تاریخ احمدیت جلد ۳ 67 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک خدا تعالیٰ نے آپ پر منکشف فرمایا کہ یہ ناسخ منسوخ کا جھگڑا ہی بے بنیاد ہے۔کوئی چھ سو بتاتا ہے کوئی انیس یا اکیس اور کوئی پانچ اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو صرف فہم کی بات ہے اور خد اتعالیٰ کے فضل سے قطعی طور پر اس نتیجہ تک پہنچے کہ ناسخ و منسوخ کا معاملہ صرف بندوں کے قسم پر ہے۔ایک دفعہ ایک شخص شاہ صاحب کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میں مدینہ منورہ ہجرت کر کے آیا ہوں لیکن یہاں کے لوگوں کے حالات سے میں تنگ آگیا ہوں شاہ صاحب سن کر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ہم بھی تو ہجرت کر کے آئے ہیں تم نے اگر جوار نبی کریم ﷺ کے لئے ہجرت کی ہے تو وہ موجود ہے۔اور اگر اس لئے کی ہے کہ حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت عثمان حضرت علی یہاں موجود ہیں۔تو یہ لوگ تو بیشک آج موجود نہیں ہیں۔آپ یہاں سے چلے جائیں۔آپ کا حضرت شاہ عبد الغنی کے بتائے ہوئے وظیفہ پر عمل جاری تھا کہ ایک دفعہ دو پہر کو سو گئے اٹھے تو جماعت ہو چکی تھی آپ کا خون خشک ہو گیا آپ کو ایسا معلوم ہوا کہ یہ اتنا بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ قابل بخشش ہی نہیں خوف کے مارے رنگ زرد ہو گیا۔مسجد سے اندر قدم رکھنے سے بھی ڈر معلوم ہوتا تھا۔مسجد نبوی کا ایک باب الرحمت ہے اس پر لکھا ہے۔یا عبادى الذين أسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعا انه هو الغفور الرحيم (الزمر۳۹ آیت ۵۴) جب آپ نے یہ آیت دیکھی تو اس سے قلبی دہشت کچھ کم ہوئی پھر بھی آپ نے بہت ہی سہمے ہوئے اور حیران و پریشان ہو کر مسجد میں قدم رکھا جب منبر اور حجرہ شریف کے درمیان پہنچے اور نماز ادا کرنے لگے تو رکوع میں بڑے زور سے خیال آیا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ ما بین بیتی و منبری روضة من رياض الجنة کہ میرے گھر اور منبر کے درمیان کا ایک ٹکڑا بہشتی ہے۔اور جنت تو وہ مقام ہے جہاں جو التجا کی جاتی ہے وہ مل جاتی ہے پس آپ نے دعا مانگی کہ الہی میرا یہ قصور معاف کر دیا جائے۔اور معافی کی صورت میں مجھے بطور اطلاع اس کی دلیل بھی بتائی جائے۔ظہر کی نماز تھی رکوع میں ہی آپ کو یہ آیت بتائی گئی کہ ولکم فيها ما تشتهى انفسكم ولكم فيها ما تدعون اور القا ہوا کہ تمہارا یہ گناہ بخشا گیا ہے۔حضرت شاہ عبد الغنی سے چالیس احادیث کی روایت کا فخر قیام مدینہ کا اہم ترین واقعہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے پیرو مرشد حضرت شاہ عبد الغنی" کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ کی چالیس صحیح احادیث کا رادی بننے کا شرف حاصل ہو ا جو ان تک ستائیس واسطوں سے مسلسل و متصل صورت میں پہنچی تھیں یہ چالیس احادیث وہ ہیں جو حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے "اربعین" میں شائع فرما دی تھیں اور آگے انہی سے یہ سلسلہ اسناد دو رادیوں سے حضرت شاہ عبد الغنی مجددی تک آیا تھا۔یعنی