تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 70 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 70

تاریخ احمدیت جلد ۳ 66 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک رکعت کوئی نماز نہیں۔کچھ دن بعد آپ نے ان کو ایک کتاب میں نماز عاشقاں دکھائی جو ایک رکعت ہوتی ہے اور ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر پڑھی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نماز بہت ہی مجرب ہے آپ نے کہا یہ امام صاحب کی اس ایک رکعت والی تحقیق کے خلاف ہے تب انہوں نے امام صاحب کے حق میں بڑی ہی گستاخی کے کلمات کہے۔آپ نے کہا کہ اس دن آپ اتنے مداح تھے یا اب ایسے گستاخ ہیں کہنے لگے کہ وہ فقہاء کے مقابلہ میں ہیں۔اور یہ تو سلطان جی نے لکھا ہے سلطان جی تو عرش پر پہنچنے والے ہیں۔ان کے سامنے امام ابو حنیفہ وغیرہ ملا لوگوں کی کیا حقیقت ہے۔تب آپ نے فیصلہ کیا کہ محبت اور تقلید بھی بڑی تکلیف میں ڈالنے والی چیز ہے۔وہ مدینہ میں اس وجہ سے رہتے تھے کہ حالت بقطہ میں نبی کریم ﷺ کو دیکھیں۔آپ نے ایک دفعہ رویاء میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا۔آپ نے فرمایا کہ تمہارا کھانا تو ہمارے گھر میں ہے لیکن نبی بخش کا ہم کو بہت فکر ہے۔" ان دنوں میں آپ نے نبی بخش کو بہت ڈھونڈا۔باوجودیکہ آپ کے ساتھ کے حجرہ میں رہتے تھے مگر ملاقات نہیں ہو سکی اور وہ حجرہ میں آئے ہی نہیں۔بہت دنوں کے بعد جب ملے تو آپ نے کہا کہ آپ کو کوئی تکلیف ہو تو بتا ئیں اور ضرورت ہو تو میں آپ کو کچھ دام دیدوں۔کہا کہ مجھ کو بہت شدت کی تکلیف تھی مگر آج مجھ کو چو نہ اٹھانے کی مزدوری مل گئی ہے اور اجرت بھی ہاتھ آگئی ہے اس لئے ضرورت نہیں۔مدینہ طیبہ میں ایک ترک کو آپ سے بہت محبت تھی۔۔اس نے کہا کہ اگر کوئی کتاب آپ کو پسند ہو تو ہمارے کتب خانہ سے لے لیا کریں۔گو ہمارا قانون نہیں ہے مگر آپ کے اس عشق و محبت کی وجہ سے جو آپ کو قرآن کریم سے ہے آپ کو اجازت ہے آپ نے فرمایا کہ مسئلہ ناسخ منسوخ کے متعلق کوئی کتاب دو۔انہوں نے ایک کتاب دی جس میں چھ سو آیت منسوخ لکھی تھی۔آپ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ساری کتاب پڑھی اور مزانہ آیا۔آپ اس کتاب کو واپس لے گئے اور کہا کہ میں جوان آدمی ہوں اور خدا کے فضل سے یہ چھ سو آیتیں یاد کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ کتاب پسند نہیں وہ بہت بوڑھے اور ماہر شخص تھے انہوں نے ایک اور کتاب دی جس کا نام "اتقان تھا اور ایک مقام اس میں بتایا جہاں ناسخ منسوخ کی بحثہ تھی۔آپ نے فوزالکبیر کو جو ہمیئی میں پچاس روپیہ کو خریدی تھی ابھی پڑھا نہیں تھا کہ آپ اتقان لے آئے اور پڑھنا شروع کیا اس میں لکھا تھا کہ انیس آیتیں منسوخ ہیں۔آپ اس کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور سوچا کہ انہیں یا نہیں آیتوں کو تو فور ایا د کرلوں گا۔گو آپ کو خوشی بہت ہوئی۔مگر آپ کو ایسا قلب اور علم دیا گیا تھا کہ پھر بھی وہ کتاب آپ کو پسند نہ آئی۔تب فوز الکبیر کا خیال آیا کہ اس کو بھی تو پڑھ کر دیکھیں اس کو پڑھا تو اس کے مصنف نے لکھا تھا کہ خدا تعالٰی نے جو علم مجھے دیا ہے اس میں پانچ آیتیں منسوخ ہیں۔یہ پڑھ کر تو بہت ہی خوشی ہوئی مگر آپ نے جب ان پانچ پر غور کی تو "