تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 67
تاریخ احمدیت جلد ۳ سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک اور ہزاروں آدمی ان کے گرد موجود تھے سب سے پہلے آپ نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اعتکاف کب بیٹھا جائے ؟ انہوں نے بیساختہ جواب دیا۔بیس کی صبح کو۔آپ نے مزید پوچھا۔حضرت میں نے سنا ہے کہ یہ اجماع کے خلاف ہے بڑے عجیب لہجہ میں فرمایا کہ جہالت بڑی بری بلا ہے۔حنفیوں میں فلاں فلاں شافیعوں میں فلاں۔حنابلہ میں فلاں۔مالکیوں میں فلاں۔کئی کئی آدمیوں کے نام لیکر کہا کہ ہر فقہ میں اس میں کے بھی قائل ہیں اس علم اور تجربہ سے آپ پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔تب وہاں سے ہٹ کر آپ نے ایک عرضی لکھی کہ میں پڑھنے کے واسطے اس وقت آپ کے ساتھ مدینہ جا سکتا ہوں؟ اس کاغذ کو پڑھ کر یہ حدیث مجھے سنائی المستشار موتمن پھر فرمایا کہ تمام کتابوں سے فارغ ہو کر مدینہ آنا چاہئے۔آپ نے یہ قصہ جا کر حضرت مولانا رحمت اللہ کے حضور پیش کیا اور عرض کیا کہ علم تو اس کو کہتے ہیں یہ بھی عرض کیا کہ ہمارے شیخ تو ڈر گئے تھے مگر حضرت شاہ عبد الغنی صاحب نے تو حرم میں بیٹھ کر ہزار ہا مخلوق کے سامنے فتوی دیا۔مگر کسی نے چوں بھی نہ کی۔فرمایا شاہ صاحب بہت بڑے عالم ہیں۔مکہ میں حضرت مولانا نورالدین خلیفہ اول نہ صرف پڑھتے تھے بلکہ اپنے علم سے دوسروں کو بھی مستفید فرماتے تھے۔چنانچہ انہیں ایام میں آپ مولوی ابو الخیر صاحب دہلوی خلف الرشید حضرت محمد عمر صاحب نقشبندی مجددی کو فقہ کی کتاب در مختار پڑھایا کرتے تھے اس وقت تک آپ نے لکھنوک رامپور میں زیادہ تر یونانی طب سیکھی اور اس کا تجربہ کیا تھا مگر مکہ میں آگر آپ کو ڈاکٹری طب کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گئی۔واقعہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر محمد وزیر خاں صاحب جو حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب کیرانوی کے دوست اور مناظرہ آگرہ میں شامل تھے۔مولوی صاحب کے مکان پر ان سے آپ کی ملاقات ہوئی ان دنوں شریف مکہ کو سنگ مثانہ تھا۔فرانس سے پتھری نکالنے کا آلہ منگوایا گیا۔اور ڈاکٹر صاحب نے وہ پتھری پیس کر نکال دی۔اس کامیاب تجربہ سے آپ کو ۱۵ ڈاکٹری طب کا بہت شوق ہوا۔مگر آپ کی تعلیمی مصروفیت ایسی تھی کہ اس طرف توجہ نہ کر سکے۔مکہ میں آپ کو بعض بڑے افسوسناک واقعات بھی پیش آئے جن کا آپ نے تفصیل سے اپنی سوانح عمری میں ذکر فرمایا ہے۔مکہ معظمہ میں پہلی مرتبہ آپ کا قیام ڈیڑھ برس تک ہو چکا تھا کہ حضرت شاہ عبد الغنی صاحب سے نیاز حاصل ہو گئے اور آپ نے ان سے فیض صحبت اٹھانے کے لئے مدینہ طیبہ کا قصد کر لیا۔مدینہ طیبہ جانے کے لئے چونکہ آپ نے حضرت شاہ عبد الغنی مجددی" سے سفر مدینہ طیبہ راہنمائی اور مشورہ حاصل کر لیا تھا۔اس لئے آپ مدینہ پہنچتے ہی ان کی خدمت