تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 66 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 66

تاریخ احمدیت - جلد ۳ 62 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک دوپہر تک سبق پڑھتے ہی چلے گئے۔مگروہ بالکل چپ بیٹھے رہے جب ظہر کی اذان کی آواز آئی تو اتنا فرمایا کہ جماعت مشکل سے ملے گی۔سو آپ وضو کر کے ظہر کی نماز کو چلے گئے۔ظہر کے بعد مولوی رحمت اللہ صاحب کے خلوت خانہ میں جاپہنچے انہوں نے فرمایا کہ آج تمہارا اپنے شیخ سے مباحثہ ہوا ہے۔آپ نے عرض کیا کہ شاگرد اور استاد کا کوئی مباحثہ نہیں ہو سکتا۔میں طالب علم آدمی ہوں میرا مباحثہ ہی کیا ہمارے شیخ بڑے آدمی ہیں۔ہاں یوں طالب العلم اساتذہ سے کچھ پوچھا ہی کرتے ہیں۔فرمانے لگے نہیں کوئی بڑا مسئلہ ہے۔آپ نے کہا مسئلہ تو کوئی نہیں ایک جزوی بات تھی۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ تمہارے شیخ آئے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض طالب علم بہت دلیر آجاتے ہیں اور ان کے مشکلات کا خمیازہ ہمیں اٹھانا پڑتا ہے پھر انہوں نے پھر سارا واقعہ ہم کو سنایا آپ نے جب سمجھ لیا کہ اب اختفا کا کوئی موقع نہیں تو ان سے عرض کیا کہ یہ ایک جزوی مسئلہ ہے اکیس کی صبح کو نہ بیٹھے ہیں کی صبح کو بیٹھ گئے اس طرح حدیثوں میں تطبیق ہو جاتی ہے۔مولوی رحمت اللہ صاحب کیرانوی نے فرمایا کہ یہ بات اجماع کے خلاف ہو جاتی ہے۔آپ نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات پر بھلا اجماع کیا ہو گا تب انہوں نے فرمایا کہ سبق کل پڑھائیں گے اب تم ہمارے ساتھ ہمارے مکان پر چلو یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے جب خلوت خانہ سے نکل کر مسجد کے صحن میں پہنچ گئے آپ نے عرض کیا حضرت اس کو ٹھے کی طرف لوگ سجدہ کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا حضرت محمد اللی کا حکم ہے۔آپ نے کہا انبیاء کا اجماعی قبلہ تو بیت المقدس ہے پھر آپ ایک شخص کے فرمان پر اجماع انبیاء بنی اسرائیل کیوں چھوڑتے ہیں؟ اتنے بڑے اجماع کو چھوڑ دیا گیا ہے۔میں نے اگر جزوی مسئلہ میں ایک حدیث کے معنی میں اختلاف کیا تو حرج کیا ہوا فرمایا دل دھڑکتا ہے۔آپ نے کہا جس کا دل نہ دھڑ کے وہ کیا کرے پھر فرمایا کہ دل دھڑکتا ہے اور کھڑے ہو گئے تب آپ نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ محقق اور عالم ہیں۔ہر مسئلہ میں شخص واحد کی اتباع کے متعلق آپ مجھے ارشاد کریں۔فرمایا ہم تو امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں مگر ہر مسئلہ میں تو ہم فتویٰ نہیں دیتے۔پھر فرمایا ہم علی العموم ان باتوں کے دشمن نہیں تمہاری شفاعت تمہارے شیخ سے کر دی ہے۔تم سبق پڑھنے جائیو رہ روکیں گے نہیں اور آزادی سے پڑھو ہم نے شیخ کو مطمئن کر دیا ہے۔آپ نے عرض کیا ہمارے شیخ حدیث کا بڑا ادب کرتے ہیں اگر میں ان کے حضور پڑھتار ہوں تو وہ کبھی مجھ کو بند نہ کریں گے فرمایا وہ ڈرے تھے ہم نے مطمئن کر دیا ہے چنانچہ آپ دوسرے دن گئے گو شیخ صاحب اس دن تو نہ بولے مگر آپ نے سبق پڑھ لیا۔اور نسائی ابو داؤد ابن ماجہ انہی سے آپ نے پڑھ لیں۔کچھ مدت کے بعد حضرت شاہ عبد الغنی مجددی مدینہ سے مکہ میں تشریف لائے۔شہر میں بڑا شہرہ ہوا۔آپ بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت وہ حرم شریف میں بیٹھے ہوئے تھے