تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 62 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 62

تاریخ احمدیت جلد ۳ 58 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) کشفیہ (فارسی قلمی) اس کے دیا چہ میں لکھا ہے کہ شوال ۱۲۴۷ھ مطابق ۱۸۳۲ء میں چلہ کشی کے نتیجہ میں بوسیلہ مرشد جو حالات مجھ پر منکشف ہوئے ان کو درج کرتا ہوں -۲- دعوت دعائے سیفی (فارسی قلمی) اس کے خاتمہ میں آپ نے اپنے مرشد کی تعلیم درج کی ہے۔۳۔تعلیم الخواص یہ ہزار صفحہ کی ایک ضخیم کتاب ہے۔(تذکرہ کاملان رامپور صفحه ۶۴۶۰) ۱۲۵- مرقاة الیقین صفحه ۷۲ ۷۶ ۱۳۶ تاریخ المحدیث از میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوئی صفحہ ۴۲۸ ۲۷- بدر / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۸ کالم ۲۔ایک دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح دہلی گئے اور سید نذیر حسین صاحب دہلوی کے پاس نمبرے آپ نے ان سے اس حدیث کا مطلب پوچھا کہ گرگٹ کو مارنا چاہئے کیونکہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں پھونکیں مارتا تھا۔سوال یہ تھا کہ یہ گرگٹ جواب موجود ہے اس کا کیا قصور؟ اس کا جواب مولوی نذیر حسین صاحب کچھ نہ دے سکے۔اور کہا یہ اعتراضات اس زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں آپ ہی اس کا جواب دیں گویا حق بہ حقدار رسید دہلوی محدث صاحب نے تسلیم کر لیا کہ زمانہ حال کے پیدا شدہ شبہات ووساوس کا جواب دینے کی قابلیت آپ ہی کو دی گئی ہے۔نیز انہوں نے ایک بخاری بھی حضرت کو نذر کی جس سے ان کی نگاہ میں حضرت مولوی صاحب کا بلند مقام و منصب بھی ثابت ہوتا ہے۔(الحکم ۲۱ اگست ۷ / ستمبر ۱۹۸ء صفحے کے کالم ۲) ۱۲۸ لکھنو وطن تھا آبائی سلسلہ حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمتہ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔اور ننھیالی قرابت میرزاؤں کے ایک نامی گرامی خاندان سے تھی۔گوشہ نشینی اور تو کل باپ دادا سے ترکہ میں ملا تھا۔ساری عمر کسی کی نوکری نہیں کی۔شعر و سخن کا شوق بچپن سے تھا شیخ امام بخش ناسخ سے مشق سخن کی اور انہی کی زندگی میں استاد مسلم الثبوت بن گئے لوگ ان کی آمدنی کو دست غیب پر محمول کرتے تھے۔۱۲۷۰ھ بمطابق ۵۴-۱۸۵۳ ء میں وفات پائی ( تذکرہ شعرائے اردو صفحه ۱۳۶۸ از سید عبدالحی صاحب سابق ناظم ندوة العلماء لکھنو) -۱۲۹ تذکرہ شعراء اردو صفحہ اے ۳ میں اصلی قطعہ یوں لکھا ہے کہ : کا شه کر عوض میرے نرم و گناہ ہے خالد دیکھ کر مجھے محتاج دو الی تجھے کو غفور الرحیم کہتے ہیں کہیں کہیں نہ یہ ان کے بندے ہیں جن کو کریم کہتے ہیں ۱۳۰- انتہائی بے نفس خدارسیدہ اور متقی انسان تھے۔عربی زبان میں بڑی تیزی سے کلام فرماتے۔مگر کوئی لفظ قرآن و حدیث سے باہر نہ ہو تا تھا۔ایک دفعہ آپ منشی جمال الدین صاحب مدارالمہام کے مکان پر آئے تو منشی صاحب نے ایک ہزار روپیہ کی تحصیلی ان کے سامنے رکھ دی یہ دیکھتے ہی ان پر خفگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔منشی صاحب نے فورا تھیلی اٹھالی تو ان کے چہرہ پر بشاشت کھیلنے لگی فرمانے لگے ہمارا ارادہ آپ کو حدیث رسول سنانے کا تھا مگر آپ نے روپیہ رکھ تو سخت قلق ہوا کہ یہ تو دنیا دار آدمی ہیں حدیث میں آتا ہے کہ روپیہ کوئی دے تو واپس نہ کرو اس لئے ہم روپیہ تو لے لیتے مگر روپیہ لے کر پھر حدیث نہ سناتے مگر اب جبکہ تم نے روپیہ واپس لے لیا ہے تم کو حدیث سنائیں گے۔(مرقاۃ الیقین صفحہ ۹۵) ١٣١ ۱ مرقاة الیقین و الحکم ۱۴ / فروری ۱۹۱۵ء صفحہ سے کالم نمبر ۲ ۱۳۲- مرقاة الیقین صفحه ۶ ۷-۸۸