تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 61 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 61

تاریخ احمدیت جلد ۳ 57 خلیفتہ المسیح الاول" کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) ۱۱۴ تذکره کاملان رامپور میں اس نام کے کئی بزرگوں کے حالات آتے ہیں معلوم نہیں حضرت کے استادان میں سے کون سے ہیں ؟ ایک بزرگ اخوند عبد الرزاق تھے جو اول قلندر خان کے گھر میں آم والی مسجد میں رہے پھر وہاں سے اس محلہ کی دوسری مسجد میں چلے گئے آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کی اس محلہ میں بہت شہرت تھی۔بلاسپور دروازہ کے قریب سڑک سے جنوب کی جانب مزار ہے ان کے انتقال کا سن ۱۸۸۲۰۸۷ء تایا جاتا ہے غالب خیال ہے کہ آپ ہی یہ بزرگ ہوں گے۔(صفحہ ۲۱۶) ۱۱۵ مرقاۃ الیقین - صفحہ ۶۲۴۶ ۱ مرقاة الیقین صفحه ۶۴۶۳ ۱۱ مرقاة الیقین - صفحہ ۲۱۷ ۲۱۶ آپ بڑے متوکل انسان تھے۔اور مسجد کے حجرہ میں رہا کرتے تھے حضرت خلیفہ اول کا چشم دید واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ان کے یہاں عشاء کے بعد کوئی مہمان آیا حیران ہوئے کہ کیا بندوبست کروں اور کس سے کہوں انہوں نے مہمان سے تو کہا کہ کھانا پکنے تک آرام کریں اور خود قبلہ رخ بیٹھ کر یہ دعا کرنی شروع کردی و افوض امری الی الله ان الله بصیر بالعباد - تھوڑی دیر بعد ہیں جتنی دیر میں کھانا پک سکتا ہے وہ برابر دعا میں مصروف تھے کہ ایک آدمی نے باہر سے آواز دی کہ حضرت میرا ہاتھ جاتا ہے جلدی آؤ۔یہ آئے ایک شخص تانے کی رکابی میں گرم گرم پلاؤ لئے ہوئے آیا۔انہوں نے لے کر مہمان کو دے دیا۔اس رکابی کا کوئی مالک نہ نکلا وہ ہمیشہ کہتے رہے کہ جس کی رکابی ہونے جائے لیکن کوئی اس کا مالک پیدا نہ ہوا۔(مرقاۃ الیقین صفحہ ۲۱۷) ۱۱۹ ۱۸۱۵-۲۹ء میں لکھنؤ کے جو ہری محلہ میں آپ کی پیدائش ہوئی۔لکھنو کے مشہور اساتذہ مولوی عبد الحکیم فرنگی محلی مولوی حسین احمد طلیح آبادی مولوی سلامت اللہ کانپوری مفتی سعد اللہ مراد آبادی اور حکیم مینا سے شرف تلمذ رکھتے تھے۔اپنے معاصرین میں یکتائے روزگار تھے پڑھاتے بھی تھے اور مطلب بھی کرتے تھے تو رع اتقا خوش خلقی اور علم و تواضع میں اپنی نظیر آپ تھے۔آپ کے تلامذہ بہت ہیں جن میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح اول کے علاوہ یہ بھی بہت مشہور ہیں۔مولوی حکیم محمد سعید معالج نظام دکن - مولوی حافظ محمد احمد صاجر مہتم مصارف حرمین بھوپال۔میر پیر علی انیس لکھنوی۔آپ نے پہلا حج ۱۸۵۴ء میں اور دوسرا ۱۸۷۳ء میں کیا۔دوسرے سفر حج میں حاجی امداد اللہ مہاجر سے بیعت ہوئے ساتھ برس کی عمر میں آپ کے کل اعضا دائیں بازو کے سوا) بے حس و حرکت ہو گئے تھے مگر عشق رسول کا یہ عالم تھا کہ اس معذوری کے عالم میں بھی خفیہ طور پر اپنے ایک عزیز کو ساتھ لے کر کعبتہ اللہ کو روانہ ہو گئے اور حرم مقدس کے قریب جہاں سے کعبتہ اللہ نظر آیا تھا ایک مکان نے کر رہائش پذیر ہو گئے اور چھ ماہ بعد ۲۷ / رجب ۱۲۹۴ھ مطابق ۸/ اگست ۱۸۷۷ء کو انتقال فرمایا اور ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری کے قبہ مبارک کے قریب دفن ہوئے۔(تذکرة کاملمان رامپور صفحه ۲۵۷٬۲۵۵) ۱۲۰ فن معقولات میں یکتائے روزگار تھے خصوصا درس زواہد ثلاثہ آپ کا حصہ تھا۔مدت تک کیننگ کالج میں افسر مدرس عربی رہے آپ کے تلامذہ کثرت سے تھے آپ نے اخذ بیعت مولانا شاح عبد الرزاق قدس سرہ سے کی۔آپ کی بھاری خصوصیت یہ تھی کہ ماہر معقولات ہونے کے باوجود بڑے راسخ الاعتقاد مسلمان اور مودب و منکسر المزاج تھے۔۱۸۹۲ء میں حج سے مشرف ہوئے۔آپ کی تصانیف مختلف اوقات میں ضائع ہو گئیں ایک حاشیہ میرزاہد رسالہ کا دستیاب ہوا جو مطبع یوسفی میں طبع ہو چکا ہے ۲۳/ اکتوبر ۱۸۹۳ء کو آپ نے وفات پائی (احوال علمائے فرنگی محل مولفہ مولوی شیخ الطاف الرحمن صاحب رئیس بڑا گاؤں ضلع بارہ بنکی ارده مطبع مجتبائی واقع لکھنو) ۱۲۱ نواب سید علی محمد خان کی اولاد میں سے تھے روہیل کھنڈ کی مشہور ریاست رامپور کے نواب یوسف علی خاں کے بعد فرمانروا ہوئے ساڑھے بائیس سال تک حکومت کی۔نہایت علم نو از بنر پسند اور عربی کے قدردان علم وفن نواب تھے شعر و سخن میں بھی کمال ذوق تھا اردو فارسی دیوان یاد گار ہیں ۲۳ مارچ ۱۸۸۷ء کو رحلت ہوئی (قاموس المشاہیر حصہ دوم صفحہ ۱۵۴) ۱۲۲- مرقاۃ الیقین صفحه ۶۷ تا اے طبع دوم با شر الشركه الاسلامیہ ربوہ دسمبر ۱۹۶۲ء ۱۲۳- بدر ۱۸ اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۶ کالم ۱- ۱۲۴ آپ رام پور میں پیدا ہوئے جوان ہو کر عربی و فارسی علوم پڑھے میاں غلام حسن شاہ کو پیرو مرشد تسلیم کیا آپ کے کمالات رام پور میں بہت مشہور ہیں نہایت بااثر اور خدا پرست درویش تھے ۲۳ / اپریل ۱۸۷۳ء کو واصل بحق ہوئے تصانیف : 1- رسالہ