تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 58 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 58

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 54 - مرقاة الیقین صفحه ۱۷۴ و الحکم ۲۸/ اگست ۱۹۲۳ء صفحه اکالم ) سوم ۷ - مرقاۃ الیقین صفحه ۱۷۴۴۱۷۳ ۶ - مرقاة الیقین صفحه ۱۷۴۱۷۳ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۰۸ء صفحہ ۳۶ و بدری / جنوری ۱۹۰۹ء صفحه ۲ ۶۷ بدر ۱۸/ اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۳ کالم ۳ و احکام ۳۱ / جنوری 1901ء صفحہ ۶ کالم ۲۳ ۲۸- احکم سے الرجون ۱۹۰۵ء صفحہ اکالم ۲ ۹ روایت جناب حکیم محمد صدیق صاحب میانی گھو گھیات خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) بدر / اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ سے کالم ۳ و الحکم جلد ۳ نمبر ۳۱ صفحہ اکالم - حضرت حافظ صاحب آخری عمر میں قادیان آگئے تھے اور سلسلہ کی رضا کارانہ خدمت کیا کرتے تھے ان کی ایک صاحبزادی حضرت ملک نورالدین صاحب کے عقد میں آئیں دو بیٹے ڈاکٹر عبد المغنی صاحب اور عبد العزیز صاحب ان کی یاد گار ہوئے۔۳۱۳ کی فہرست میں ان کا نام ۲۹۷ نمبر پر ہے (حیات احمد چہارم صفحہ الى الحکم ۷ ار جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲ کالم ۲۔۷۲ الفضل ۳/ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵ کالم ۲ ۷۳۔بدر / جنوری ۱۹۰۹ء صفحه ۲ کالم و مرقاة الیقیین صفحه ۱۷۸ ۷۴ مرقاة الیقین صفحه ۵۵- بد ر ۱۹/ اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۵ کالم ۳ ۷۵ حضرت خلیفہ اول اس زمانہ کا ایک واقعہ بیان کرتے تھے کہ جب میں پڑھنے لگا تو مجھے خوب یاد ہے کہ یا غستان سے ایک تاجر ہمارے ڈیرہ میں آیا اس نے کوئی چیز پڑھتے وقت میرے بھائی سے کہا کہ اسے قرآن شریف پڑھائیے اور مجھے ایک سورۃ اذا وقعت الواقعه معه ترجمه دی "۔بدری / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم ) ۷۔قلمی بیاض حضرت خلیفہ اول ۷۷ بدر ۱۸ اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۶۴۵ - یہ مدرسہ ایک اسلامی مکتب تھا اور آپ کے پڑھانے والے ایک مسلمان تھے۔ڈسٹرکٹ اسکول بھیرہ 19 جولائی ۱۸۵۴ء سے جاری ہوا تھا ( پنجاب ڈسٹرکٹ گزٹ ۱۸۸۳۰۸۳ء صفحه (۱۳) لہذا ابتداء آپ جس درس گاہ میں پڑھے وہ یہ ڈسٹرکٹ اسکول تو بہر حال نہیں ہو سکتا۔۷۸۔بدری / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم ۲- 29 مدرسہ میں داخلہ یا اس کے قریب کا ایک واقعہ حضرت خلیفہ اول یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ۱۸۴۶ ء میں چارہ کے ایک مشہور ڈاکو مردانہ نامی کا سر پکڑ کر اڑا دیا گیا اور بھیرہ کی چٹی پل کے دروازہ پر اس کا سر ٹکا دیا گیا۔اس نامی گرامی ڈاکو کو دیکھنے کے لئے سب لوگ گئے تھے جن میں آپ بھی تھے ایک ہجوم میں کھڑے آپ نے اس کو دیکھا۔(مرقاۃ الیقین صفحہ ۱۷۹) ۸۰ مرقاة الیقین صفحه ۱۷۸ ۱ مرقاة الیقین صفحه ۱۷۸- اخبار نور جلد ۴ نمبر صفحه ۱۳ ۸۲ بروایت ملک عبد الرشید صاحب متصل مسجد فضل احمد یہ بھیرہ ۸۳ بادر ۲۱/۲۸ جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۳ کالم ۲۱ -۸۴ رپورٹ صدرانجمن احمد یه ۱۹۰۸-۱۹۰۷ء صفحه ۴۴ حکیم امین الدین شاری والے آپ بحیرہ کا کتا ہے کہ آپ کے ہم مکتبوں میں بابو امام الدین صاحب بھی تھے جو میاں اسلام احمد کے چھوٹے بھائی تھے۔۸۶- حکیم صاحب کے آپ کے بھائیوں سے گہرے تعلقات تھے بلکہ آپ کے بھائی طب میں ان کے شاگرد بھی تھے (مرقاۃ الیقین صفحہ ۵۵) حکیم صاحب سکھ عہد کے بلند پایہ اطباء میں سے تھے۔علم و فضل میں بھی یگانہ روزگار تھے سکھوں کے دربار میں ان کی بڑی عزت تھی۔تاریخ لاہور کنہیا لال صفحہ (۶) آپ کے شاگردوں میں حکیم الہ دین بہت مشہور ہوئے حکیم صاحب انگریزی عہد میں