تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 56 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 56

تاریخ احمدیت جلد ۳ 52 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی (تحمل از خلافت) ۳۸- وصلی در باہم پیوند کئے ہوئے کاغذ کا ورق جس پر خوشنویس لوگ قطعہ وغیرہ کی مشق کرتے ہیں۔مشق کرنے کا موٹا کاغذ - تاسی کا شعر ہے لگ گئی پیٹھ مری ہجر میں یوں بستر سے جس طرح وصلی میں کاغذ سے ہو پیوند (فرہنگ آصفیہ) بدر ۲۷/ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۳ کالم ۳۔پدر / مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۷ کالم ۴۱- بدر / مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ کے کالم ۴۲ پادری / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۸ کالم ۳ ۴۳- مرقاة الیقین صفحه ۷۴-۱۷۵ ۴۴ مرقاة الیقین صفحه ۱۷۳ ۴۵- الحکم ۲۴ / اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۶ کالم ۲ مرقاة الیقین صفحه ۱۷۶- عسل مصفی از مرز اخد ابخش صاحب حصہ دوم صفحه ۶۷۵ ، یہ جوبلی شہری مسجد کے آئے دائیں طرف ایک تھی میں واقع تھی علی محمد حین صاحب قریشی موجد مطرح نبی کسی زمانہ میں ۴۸- اختر شاہنشای صفحه ۱۹- ۴۹ مرقاة الیقین صفحه ۵۵ ۵۰ تاریخ لاہور صفحه ۴۵ ۵۱ ملاحظہ ہو اخبار کوه نور ۲۹/ جنوری ۱۸۵۶ء صفحه ۱۸۰ اصل پرچہ پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں موجود ہے) ۵۲ ضلع جہلم میں ایک گاؤں جگہ ہے جو کسی زمانہ میں بڑا علمی مرکز تھا یہاں ایک خاندان آباد ہے جو سالہا سال سے حافظ چلا آتا ہے مولوی صاحب اسی خاندان میں سے تھے آپ نے چودہ سال تک دہلی میں تحصیل علم کیا اور ظاہری علوم حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ محمد اسحاق سے حاصل کئے اور بیعت شاہ غلام علی شاہ سے کی۔چھ مہینے بگہ میں اور چھ مہینے لاہور میں درس دیتے۔کہتے ہیں کہ دو ہزار علماء فضلاء نے آپ سے حدیث کی سند حاصل کی۔اپنی زندگی کے آخری ایام بھیرہ میں گزارے اور جامع مسجد میں دفن ہوئے۔ولادت ۱۸۰۲ و روفات ۱۸۷۰ء ( نقوش لاہور نمبر صفحه ۵۳۳) (ایضاً" برق آسمانی " حاشیه صفحه ۶۰ از ظہور احمد صاحب بگوی) ان کی لکھائی ہوئی بعض یادداشتیں حافظ احمد الدین صاحب پر اچہ کی بیاض میں ہیں جو مولف ہذا کے پاس موجود ہے۔۵۳۔ہاری اور حق تو ہی ہے تیرے سوا کوئی ہاری نہیں (مرقاۃ القین صفحہ ۱۷۳) و بدری / جنوری ۱۹۰۹ء صلحہ ۲ کالم اقلمی بیاض حضرت خلیفتہ صحیح اول ۵۴ مرقاۃ الیقین میں حضرت خلیفہ اول نے یہ لکھا ہے کہ " میانی میں بھی ہمارا ایک گھر تھا " (صفحہ ۲۰۷)۔یہ گھر حکیم غلام احمد صاحب ہی کا تھا۔میانی کا قصبہ دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر واقع ہے حضرت خلیفہ اول جب پنڈ دادنخان میں ہیڈ ماسٹر تھے تو اسی رستہ سے دریا عبور کر کے جایا کرتے تھے۔میانی کا قدیم نام مشمس آباد ہے۔گو وہ سیلاب کی نذر ہو گیا جسے شاہجہان کے خسر آصف جاونے دوبارہ بنوایا۔مگر نور الدین ( جنرل احمد شاہ) نے ۷۵۴ او میں اسے بھی تباہ کر دیا۔اس کے بعد اس مقام پر موجودہ قصبہ آباد ہوا۔جو لون میانی "کہلاتا ہے۔پنجاب ڈسٹرکٹ گزیر ضلع جہلم صفحہ ۲۶۳ ۵۵- کلام امیر صفحه ۵۸ ۵۲ بیاض قلمی حضرت خلیفہ اول۔آپ کے قلم سے تیسری بیٹی کانام اللہ ہی کا بھی پتہ چلتا ہے مگر مرقاۃ میں صرف دو بیٹیوں کا آپ نے ذکر فرمایا ہے اور اس کے مطابق شجرہ نسب بنایا گیا ہے۔۵۷- مرقاۃ الیقین صفحہ ۷۵ اسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے ہر بھائی کی غالبا پانچ پانچ چھ چھ تک اولاد تھی۔مرقاۃ الیقین صفحہ ۲۰۸ پر آپ کے ایک بھتیجا شاہسوار نامی کا ذکر ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ یہ آپ کے کس بھائی کا بیٹا تھا۔