تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 45 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 45

تاریخ احمدیت جلد ۳ 41 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) مولوی صاحب نے یہ سن کر فرمایا۔کہ اب یہ مرگیا ہے۔خدا تعالٰی کے عجائبات ہیں سچ سچ وہ خدمت گار راہی ملک عدم ہو گیا۔اور حکیم ابراہیم صاحب آئندہ تمسخر سے باز آگئے۔حضرت مولوی صاحب نے اپنی طبی تعلیم میں ایک خاص اصول و مسلک اپنے پیش نظر ر کھا اور وہ یہ کہ آپ نے مفرد اور مرکب ادویہ کے متعلق حکیم علی حسین صاحب سے کبھی کوئی سوال نہ کیا کہ یہ مرکب کس طرح بنتا ہے یا اس مفرد کا کیا نام ہے بات یہ تھی کہ اگر ود نام بتاتے تو صرف لکھنو کا مروج نام اور وہ میرے لئے اپنے وطن میں بھی مفید نہ ہوتا۔اور آپ کو یقین تھا کہ مرکبات کے معلوم کرنے کے لئے قرابادیوں کا مطالعہ کافی ہو گا۔باقی رہا نسخہ نویسی کا علم تو اس کے متعلق حکیم علی حسین صاحب یہ چاہتے تھے کہ آپ ان کے نسخے لکھا کریں مگر آپ کو علم پڑھنا مطلوب تھا اس لئے جو نہی آپ مطب میں بیماروں کا ہجوم دیکھتے تو اپنے دوسرے اساتذہ کے پاس اور علوم کے واسطے چلے جاتے۔کیونکہ حکیم صاحب موصوف کے پاس صبح سے عشاء تک اپنا ضروری سبق بھی بمشکل ختم ہو سکتا تھا۔ایک دفعہ آپ کے طبی امتحان کا موقعہ آیا جس میں خدا تعالٰی نے عجیب رنگ سے آپ کو کامیابی بخشی۔اس واقعہ کی تفصیل خود حضرت مولوی صاحب کے قلم مبارک سے تحریر کرتا ہوں۔فرماتے ہیں: ایک دن مرمن ماشرہ کا مبتلا ایک بیمار آیا اس کا سر اس قدر موٹا ہو گیا تھا جیسے ہاتھی کا۔اس کے ہونٹوں اور آنکھوں کی شکل بھی بڑی بھیانک تھی۔میں اس سے دو تین روز پہلے یہ مرض پڑھ چکا تھا مگر مریض کو دیکھ کر سمجھ میں نہ آیا۔کہ یہ ماشرہ ہے ادھر حکیم صاحب نے فرمایا کہ اس کا نسخہ لکھو میں سخت گھبرایا آخر میرے پاس تو دعا ہی کا ہتھیار تھا۔معا حکیم صاحب نے بے ساختہ فرمایا۔کہ ایسے ماشرہ دنیا میں کم دیکھنے میں آتے ہیں۔تب میں نے عرض کیا کہ اس مریض کو دیکھنے میں بہت جمگھٹا ہو گیا ہے۔یہ اس کو مکان پر لے جائیں۔اور پھر آکر نسخہ لے جائیں۔اس طرح وقت کو ٹلادیا اور خود اپنے کمرہ میں جاکر حکیم صاحب کی زیر نظر کتا ہیں۔شرح گیلانی قانون ترویج الارواح طبری اور مجموعہ بقائی کو دیکھنا شروع کیا۔اور ان تمام کتابوں سے ایک مشترکہ نسخہ مضمار اور طلاء اور کھانے کا لکھ لیا۔اور کتا ہیں اپنی اپنی جگہ رکھوا دیں۔اور نسخے قریب یاد کرلئے۔تیمار دار دیر کے بعد آیا اور حکیم صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ نے نسخہ لکھا ہے؟ میں نے کہا کہ ابھی لکھ دیتا ہوں قلم اٹھا کر نسخے لکھ دیئے اور حکیم صاحب کے حضور پیش کئے۔حکیم صاحب نے ان کو دیکھ کر مجھے اشارہ کیا کہ شرح گیلانی ترریح اور مجموعہ بقائی لاؤ میں لایا۔میرے نسخوں کو سامنے رکھ کر سرسری نظر ان کتابوں پر ڈال لی اور نسخے تیماردار کو دے دیئے۔جب فراغت ہوئی تو اپنا بیاض بڑی محبت سے مجھ کو عطا کیا اور فرمایا تم اس کے اہل ہو۔دے کر آپ حرم سرا میں تشریف لے گئے۔میں نے دیکھا اس میں کچھ نسخے تھے۔اس بیاض کو میں نے