تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 634
تاریخ احمدیت جلد ۳ 622 " تاریخ احمدیت " پر تبصرے بے نظیر غیرت۔اس کے قرآن کے ساتھ والہانہ عشق اور اپنے آقا مسیح موعود علیہ السلام کی مکمل اطاعت تھی اپنے آقا علیہ السلام کے ساتھ صدق و وفا کا جو نمونہ آپ نے دکھلایا وہ اپنی نظیر آپ تھا اور جب تک آپ میں بولنے کی طاقت رہی آپ قرآن کریم سنتے اور سناتے رہے۔اور توحید الہی کے لئے آپ کی غیرت اس ایک ہی واقعہ سے ظاہر ہو جاتی ہے۔کہ آپ مدینہ البنی میں آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک پر دعا کر رہے تھے۔کہ آپ کو معا خیال آیا کہ نورالدین خدا کا گھر تو مکہ میں ہے اور تو اس کے رسول ﷺ کے دوارے کھڑا اس کو پکار رہا ہے۔اس خیال کا آنا تھا کہ آپ نے رخت سفر باندھا۔اور اسی وقت مکہ کو روانہ ہو گئے۔مولوی دوست محمد صاحب مبارک باد کے قابل ہیں۔کہ انہوں نے ایک بہت بڑے روحانی انسان کے حالات کو جہاں ایک طرف نہایت دل آویز اور دل کش پیرائے میں جمع کر دیا ہے وہاں انہوں نے مور خانہ تنقید کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔کتاب کا پہلا حصہ جس میں حضرت سیدنا کی زندگی کے ابتدائی حالات درج ہیں مولوی صاحب موصوف کی مورخانہ قابلیت کو ظاہر کرتا ہے۔اور اس کا آخری حصہ جس میں آپ کے کریکٹر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور جو اصل میں کتاب کی جان ہے اس محبت اور عقیدت کو ظاہر کرتا ہے جو مولوی دوست محمد صاحب کو حضرت خلیفتہ المسیح اول ال سے ہے۔مولوی صاحب نے یہ کتاب تالیف فرما کر جماعت احمدیہ اور خصوصاً اسے نوجوان طبقہ پر جنہوں نے حضور کے عہد مبارک کو نہیں پایا بہت بڑا احسان کیا ہے۔میں نے کتاب کو بالاستیعاب پڑھا ہے۔اور جب میں اس کو ختم کر چکا۔تو میری یہ حسرت رہی کہ کاش مولوی صاحب کچھ اور بھی لکھتے۔کتاب کے مطالعہ سے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح اول کے متعلق علم میں بہت بڑا اضافہ تو ہوتا ہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر انسان کے ایمان میں ترقی ہوتی ہے کہ کتنا عظیم الشان خدا کا وہ مامور و مرسل تھا جس کو نور الدین جیسا خادم ملا۔غلام فرید ملک ۸۰ ٹمپل روڈ - لاہور۔۲۳/۱۲/۱۳ (غیر مطبوعہ)