تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 44
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 40 خلیفتہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت ) ہے یا آزادی سے علاج کرنا۔چار سو کے قریب یہاں شہر میں آمدنی ہوتی ہے۔کیا اس آمدنی کو چھوڑ کر ملازمت اختیار کریں ؟ تمہارے خیال میں یہ بھلی بات ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نوکری آپ کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ موجودہ حالت میں اگر آپ کے حضور کوئی شخص اپنے پہلو یا سرین کو کھجلانے لگے تو آپ کو یہی خیال ہو گا۔کہ یہ کچھ دینے لگا ہے اس پر وہ قہقہہ مار کر ہنسے اور اللہ تعالٰی نے ان کے دل میں یہ ڈال دیا کہ یہ بھی اس شخص کے تصرفات کی کوئی بات ہے غرض ہماری ولایت کا وہاں سکہ بیٹھ گیا۔پھر وہ تار نکالا اور کہا کیا یہ آپ کے رامپور جانے کی ترکیب نہیں ؟ اچھا ہم منظور کرتے ہیں اور آپ ساتھ چلیں۔غرض معارا مپور آنے کی تیاری ہو گئی"۔لکھنو اس زمانے سے لے کر آج تک شیعیت کا ہندوستان بھر میں بہت بڑا مرکز رہا ہے اس لئے لکھنو کے زمانہ قیام میں آپ کو شیعہ حضرات کے عقائد و اعمال کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا بڑا اتفاق ہوا۔کیونکہ وہاں شیعہ طلباء بھی تھے۔اور علماء بھی۔سب کے حالات دیکھنے کا آپ کو بخوبی موقعہ ملا۔تب آپ کو شوق ہوا کہ میں تحقیقات کروں کہ دنیا میں کس قدر مختلف الخیال لوگ ہیں اور ان میں با ہم کیا اختلاف ہے۔ازاں بعد آپ کی نظر میں جوں جوں وسعت اور دماغ میں اور زیادہ بصیرت پیدا ہوتی گئی۔آپ کے سامنے مذاہب عالم کے اختلافات کے سب ہی گوشے نمایاں ہو گئے اور اختلافی مسائل کا ایک وسیع میدان دکھائی دیا۔مگر آپ پوری زندگی کی تحقیق و مطالعہ کے بعد بالا خر اس نتیجہ پر پہنچے کہ مقلد ہوں یا غیر مقلد سنی ہوں یا شیعہ ان میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے "۔رامپور میں دوبارہ درود لکھنو سے آپ حکیم علی حسین صاحب کے ہمراہ رامپور چلے آئے اور دوبارہ حافظ عبد الحق صاحب کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور محلہ پنجابیاں کے لوگ بدستور آپ سے بہت مردت کرتے رہے۔رامپور آکر حکیم صاحب نے حضرت مولوی نور الدین صاحب سے علی بخش کی صحت کے لئے دعا کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا مجھے یہ بچتا نظر نہیں آتا اور مجھے اس کے لئے دعا کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور بدوں توجہ دعا نہیں ہو سکتی۔چنانچہ علی بخش مر گیا۔اس کے مرنے پر حکیم صاحب نے آپ سے کہا۔کہ علی بخش کے مرنے پر ہمارے شہر کے ایک حکیم ابراہیم صاحب کو دربار میں ہم پر نہی کا موقعہ ملا ہے۔آپ کی زبان مبارک سے بے ساختہ نکلا۔کہ اس مریض جیسا کوئی ان کے ہاتھ سے بھی مرد ہے گا۔قدرت الہی 11 نہ گمان نہ خیال علی بخش کے بالمقابل نواب کلب علی کا ایک دوسرا خدمت گار بھی اسی بیماری میں گرفتار ہوا۔اور حکیم ابراہیم صاحب لکھنوی اس کے معالج تجویز ہوئے۔معالج حکیم اس کی صحت کے متعلق بہت پر امید تھے۔اور انہوں نے اس کا اظہار کرتے ہوئے کہہ بھی دیا کہ ہم کو اس کی صحت کی بہت امید ہے۔مگر حضرت