تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 622
تاریخ احمدیت جلد ۳ ہوئی۔610 خلافت اولی پر ایک طائرانہ نظر تبلیغی جلسے اس دور کی یہ بھاری خصوصیت ہے کہ اس میں بر صغیر ہندو پاک کے طول و عرض میں بڑی کثرت سے جلسے ہوئے اور احمدیت کا پیغام ہر طبقہ تک پہنچا۔بعض مشہور مقامات جہاں جلسے ہوئے یہ ہیں۔قادیان - میرٹھ - کانپور - اٹاوہ سونگھیر - الہ آباد - امرت سر- بٹالہ - شملہ - حیدر آباد دکن - پٹیالہ - بنگہ کلکتہ - سامانہ - پٹیالہ - ہوشیار پور۔سڑدہ ضلع ہوشیار پور کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور - لاہور - سیالکوٹ - مردان - ڈیرہ غازی خان گوجرہ- لائل پور - برہمن بڑیہ۔شاہجہانپور - خلافت اوٹی میں ہزاروں سعید رو میں حلقہ بگوش خلافت اولیٰ کے بعض مبایعین احمدیت ہو ئیں اور ہر طبقہ کے لوگوں نے حق قبول کیا۔خصوصاً سابق صوبہ سرحد - شمال مغربی کشمیر اور ضلع ہزارہ میں احمدیت کا بڑا چرچا ہوا۔نواب خانی زمان خاں صاحب کے کئی کارکن احمدیت میں شامل ہوئے۔17 اس طرح اٹھوال کا گاؤں احمدی ہو گیا۔بنگال میں احمدیت کو بہت قبولیت حاصل ہوئی اور سینکڑوں نے احمدیت اختیار کی۔حیدر آباد دکن میں احمدیت نے بہت اثر و نفوذ پیدا کیا اور ایک بڑی جماعت قائم ہو گئی۔الحکم کی ایک خبر کے مطابق "راس اتین" میں بیک وقت ڈیڑھ سو نفوس داخل احمدیت ہوئے۔مالا بار اور ماریشس میں بھی کئی لوگ احمدی ہوئے۔II اسی طرح غیر ممالک میں بھی کئی لوگ سلسلہ میں شامل ہوئے۔غرمنکہ حضرت خلیفہ اول کے عہد میں جماعت کی تعداد میں نمایاں ترقی ہوئی۔اس عہد کے چند ممتاز مبایعین کے نام یہ ہیں۔(1) خان صاحب منشی فرزند علی صاحب فیروزپور (۱۸۷۶-۱۹۵۹) (۲) مولوی سید عبد الواحد صاحب بنگالی (وفات ۲۰ مارچ ۱۹۲۶) (۳) مرزا ناصر علی صاحب وکیل فیروز پور (برادر اصغر مرزا ظفر علی صاحب (۴) شیخ عبد الرب صاحب لائلپور سابق شورام داس خسر مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل نومسلم (۵) پیراکبر علی صاحب ایڈووکیٹ فیروز پور (وفات ۲۶/مئی ۱۹۴۸) (۲) مولوی عبد المغنی خان صاحب ناظر بیت المال و دعوة تبليغ (وفات ۱۴ ستمبر ۱۹۵۵) - (۷) شیخ محمد یعقوب صاحب والد ماجد شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی (وفات (۱۹۴۱) (۸) خان بہادر دلاور خان صاحب مرحوم (ولادت ۱۰ / مارچ ۱۸۹۹ء) (۹) سید محمد طفیل شاہ صاحب کو گھر وال (وفات ۲۵ / مارچ ۱۹۵۳ء) (۱۰) میاں محمد مراد صاحب پنڈی بھٹیاں - (۱۱) ملک صاحب خان صاحب نون (۱۲) سیٹھ خیر الدین صاحب لکھنو (وفات ۲۲ دسمبر ۱۹۶۰ء) (۱۳) مولوی ارجمند خان صاحب سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ (ولادت ۶۱۸۹۴) (۱۴) دوست محمد خان صاحب مجانہ ڈیرہ غازی خان (۱۵) صوفی عطا محمد صاحب والد صوفی بشارت الرحمن بصاحب ایم۔اے۔(۱۲) سیٹھ محمد غوث صاحب