تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 615 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 615

607 خلافت اوٹی پر ایک طائرانہ نظر خطوط کے پیش کرنے کی بجائے ان کی روزانہ فہرست معہ نام و مقام اور مطلب کے خلاصہ کے آپ کے سامنے پیش کر دی جاتی اور حضور اس فہرست کو آگے رکھ کر ایک ایک کے لئے دعا کر دیتے۔البتہ وہ خطوط جو دوسرے امور سے متعلق ہوتے۔خادم ڈاک کی طرف سے روزانہ پیش ہوتے۔بعض سنا دیئے جاتے بعض کو حضور خود ملاحظہ فرماتے۔گاہے خود اپنے قلم سے جواب تحریر فرماتے۔مگر عموماً ہر خط کے بارے میں ہدایت فرما دیتے کہ یہ جواب لکھا جاوے۔بعض ضروری جوابات ساتھ ساتھ بدریا الحکم میں بھی شائع کر دیئے جاتے تھے۔خاص اس غرض کے لئے "کلام امیر" کے نام سے بعد میں ایک الگ ضمیمہ شائع ہونے لگا جو بڑا ایمان افروز ہو تا تھا۔۱۹۱۴ء میں صدر خلافت اولیٰ کے آخری سال میں صد رانجمن احمدیہ کے عہدیدار انجمن احمدیہ کے مندرجہ ذیل عہدیدار تھے۔(1) میر مجلس و افسر مدرسہ احمدیہ و افسر بیت المال حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایده الله تعالى۔(۲) سیکرٹری افسر اشاعت اسلام مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔(۳) محاسب وافسر شفاخانہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (۴) ناظر منشی مرزا محمد اشرف صاحب (۵) امین ماسٹر فقیر اللہ صاحب (۲) آڈیٹر بابو عبد الحمید صاحب لاہور - (۷) مشیر قانونی چوہدری نصر اللہ خان صاحب (۸) اسسٹنٹ سیکرٹری افسر تعلیم مولوی صدر الدین صاحب بی اے بی ٹی۔(۹) افسر بہشتی مقبرہ - حضرت میر ناصر نواب صاحب (۱۰) سب کمیٹی تعمیر - حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ( اور آپ کی عدم موجودگی میں ماسٹر محمد الدین صاحب) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت خلیفہ اول کی ہدایت کے مطابق مجلس معتمدین کے ممبر تجویز ہوئے اور نہ صرف آپ بحیثیت ممبر قومی فرائض سرانجام دیتے تھے بلکہ حضرت خلیفہ اول کی مرض الموت کے ایام میں منعقد ہونے والے انجمن کے دو اجلاس کی صدارت آپ نے فرمائی۔خلافت اولیٰ کے بعض مصنفین اس دور کے ممتاز مصنف یہ ہیں۔حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی) حضرت میر محمد اسحق صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت میر قاسم علی صاحب - خواجہ کمال الدین صاحب - مولانا عبد المساجد صاحب بھاگلپوری۔حکیم خلیل احمد صاحب مو نگهیری - مولانا سید محمد احسن صاحب امرد ہوی۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین