تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 614
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 606 خلافت اولی پر ایک طائرانہ نظر نظامت- درس قرآن - امیر قادیان کی حیثیت سے فرائض انصار اللہ کی بنیاد - سفر مدارس ہند - سفر حج - ادارت الفضل فتنہ منکرین خلافت کی سرکوبی وغیرہ۔خلافت اولیٰ میں انتقال کرنے والے بزرگ خلافت اوٹی میں انتقال کرنے والے بعض بزرگوں کے نام یہ ہیں۔حضرت چوہدری رستم علی صاحب مدار ضلع جالندھر (وفات جنوری ۱۹۰۹ء)- قدرت اللہ خان صاحب شاہجہان پوری (وفات اپریل ۱۹۰۹ء) حضرت حکیم فضل دین صاحب بھیروی (وفات اپریل ۱۹۱۰ء) - صاحبزاده حمید احمد صاحب پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (وفات اگست ۱۹۰۹ء) - مولوی عبد الله صاحب ضلع ہزارہ (وفات جنوری ۱۹۱۱) - حضرت قاضی خواجہ علی صاحب لدھیانوی (وفات اگست ۱۹۱۲ء) - اسی دور میں سلسلہ کی جن خواتین نے وفات پائی ان میں سے بعض یہ ہیں۔محمدی بیگم صاحبہ زوجہ پیر منظور محمد صاحب لدھیانوی (وفات اکتوبر ۱۹۰۸ء) - فاطمہ بیگم صاحبہ زوجہ مولوی محمد علی صاحب (وفات نومبر ۱۹۰۸ء) - بخت روشن صاحبه والده حافظ روشن علی صاحب (وفات اپریل ۱۹۱۱ء)۔حیات النور صاحبہ زوجہ حافظ روشن علی صاحبہ (وفات نومبر ۱۹۱۱ء)۔سکینہ بی بی صاحبہ زوجہ قاضی امیر حسین صاحب (وفات اگست ۱۹۱۳ء) خاندان مسیح عہد خلافت اولیٰ میں پیدا ہونے والے بعض اور نامور فرزند موعود عليه السلام کے علاوہ جماعت میں کئی ایسے ہو نہار فرزند پیدا ہوئے جنہوں نے آگے چل کر سلسلہ کی بھاری خدمات سر انجام دیں مثلا ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی ( ۱۹۱۰-۱۹۵۷ء) حضرت خلیفہ اول کی ڈاک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت خلیفہ اول کا عام دستور تھا۔کہ جہاں تک ممکن ہو تا اپنے قلم سے خطوں کا جواب دیتے تھے مگر زمانہ خلافت میں یہ اہتمام نا ممکن تھا۔اس لئے عموماً پیر افتخار احمد صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب آپ کی طرف سے خطوط کے جواب پر مقرر تھے۔ان بزرگوں کے علاوہ گاہے گاہے حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اور مفتی فضل الرحمٰن صاحب بھی یہ خدمت سر انجام دیتے تھے۔حضرت کی خدمت میں آنے والی ڈاک براہ راست خادم ڈاک وصول کرتا تھا۔جو تین حصوں میں تقسیم کرتا۔(۱) طبی خطوط (۲) دعا کی درخواست پر مشتمل خطوط (۳) دوسرے امور سے متعلق خطوط۔طبی خطوط حضور کے خاص طبی شاگرد کے سپرد کی جاتی جو مناسب موقعہ پر حضرت کی خدمت میں پیش کر کے جواب لکھ دیتے۔دعائیہ