تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 610 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 610

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 602 خلافت اولی پر ایک طائرانہ نظر دسواں باب امیرالمومنین حضرت خلیفہ المسیح اول کے عہد خلافت پر ایک طائرانہ نظر قادیان حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں قادیان سے بٹالہ تک یکے چلتے تھے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان آنے والوں میں خاصہ اضافہ ہوا اور آمد و رفت کے لئے ٹمٹموں کا رواج ہونے لگا۔اس زمانہ میں قادیان دینی و دنیاوی علوم کا گہوارہ اور طب کا ایک اہم مرکز تھا۔مگر سب سے بڑی خصوصیت جو اس پاک بستی کو حاصل تھی وہ اس کا خالص اسلامی ماحول تھا۔جو دنیا بھر میں صرف اسی کی فضا کو میسر تھا۔یہ ایک جنت تھی جو اس خطہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسی اور حضرت خلیفہ اول کے دست تربیت سے ابھر آئی تھی اور جس سے کوئی بیرونی شخص بھی خواہ وہ کسی مذہب وملت کا ہو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ صحابہ کرام کے زمانہ کی یاد دلاتا تھا۔قرآن کریم ، حدیث شریف اور دوسرے دینی علوم کے پڑھنے پڑھانے کا جماعت میں ایک زبر دست ولولہ تھا۔جو بے نظیر عشق دین حضرت خلیفہ اول کے دل میں موجزن تھا اس نے اہل قادیان کے دلوں میں ایک چنگاری روشن کر رکھی تھی۔اور اس کا ایک زبر دست اثر بیرو نجات کی جماعتوں پر بھی تھا۔قادیان اور قادیان سے باہر کے لوگ برابر دین کا علم سیکھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور یہ بات بالخصوص قادیان کی رونق اور نیک شہرت کا باعث تھی اور اس بات نے افراد جماعت میں دینداری ، دیانتداری اور پرہیز گاری پیدا کر دی تھی۔حضرت خلیفہ اول اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دین کا اثر ہمارے تمام معاملات میں نظر آنا چاہئے۔چنانچہ قادیان کے لوگوں میں خصوصاً اور باہر کی جماعتوں میں عموماً احکام دین کی پابندی کا بہت شوق تھا۔اور دوسری بات جس پر آپ بڑا زور دیا کرتے تھے وہ یہ تھی کہ ایک مسلمان ہر معاملہ کے متعلق جناب الہی میں گرے اور دعا کرتا ر ہے اور اس بات پر آپ زور دیتے کبھی جھکتے ہی نہ تھے۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ بڑے تو ایک طرف رہے