تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 611 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 611

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 603 خلافت اوٹی پر ایک طائرانہ نظر چھوٹے بچے بھی رو رو کر دعائیں کرتے تھے۔اور جماعت میں عام طور پر یہ یقین تھا۔کہ مومنوں کی دعا ئیں خداتعالی سنتا ہے اور اس ذریعہ سے ہر تکلیف دور ہو سکتی ہے۔ان دنوں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کی درسگاہیں بچوں میں دینی اور مذہبی روح پھونکنے کا مئوثر ذریعہ تھیں اور مخالفین احمدیت تک اپنی اولادوں کو قادیان میں تعلیم کے لئے بھجوایا کرتے تھے۔طلبہ نہ صرف پنج وقتہ نمازیں باجماعت ادا کرتے بلکہ سہ پہر کو بلا ناغہ حضرت خلیفہ اول کا اور کچھ عرصہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کا درس قرآن سننے کے لئے دار العلوم سے مسجد اقصیٰ میں آتے تھے یہ قادیان کا سب سے بڑا روحانی مکتب تھا جس سے چھوٹوں سے لیکر بڑوں تک یکساں فائدہ اٹھاتے اور اپنے علم و عرفان میں اضافہ کرتے تھے۔رمضان شریف میں قادیان کا روحانی نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا یوں محسوس ہو تاکہ دلوں پر قرآنی علوم کی بارش ہو رہی ہے اور فرشتے انوار و برکات تقسیم کر رہے ہیں۔اس بے مثال کیفیت کا کسی قدر تصور دلانے کے لئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ستمبر ۱۹۱۲ء میں ” قرآن رمضان" کے عنوان سے ایک نوٹ لکھا جس میں بتایا کہ گیارہ مہینے کیسی ہی غفلت میں گذرے ہوں۔رمضان کے روزے ضرور اہتمام سے رکھے جاتے ہیں اور اس ماہ میں نمازوں کی پابندی بھی کی جاتی ہے۔اور صدقہ و خیرات کا دروازہ بھی حسب مقدور کھولا جاتا ہے۔یہ تو عام اسلامی دنیا کا رنگ ہے ہی لیکن قادیان کا رمضان قرآن شریف پڑھنے اور سننے کے لحاظ سے ایک خصوصیت رکھتا ہے۔تہجد کے وقت مسجد مبارک کی چھت پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔صوفی تصور حسین صاحب خوش الحانی سے قرآن شریف تراویح میں سناتے ہیں حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب بھی قرآن شریف سننے کے لئے اسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔تراویح ختم ہو ئیں تو تھوڑی دیر میں الصلوۃ خیر من النوم کی آواز بلند ہوتی ہے۔زاہد و عابد تو تہجد کی نماز کے بعد اذان فجر کی انتظار میں جاگ ہی رہے ہوتے ہیں دو سرے بھی بیدار ہو کر حضرت صاجزادہ صاحب کے لحن میں کسی محبوب کی آواز کی خوشبو سے اپنے دماغوں کو معطر کرتے ہوئے فریضہ صلوۃ فجر کو ادا کرتے ہیں۔جس کے بعد مسجد کی چھت قرآن الفجر کے محسین سے گونجنے لگتی ہے۔مگر چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح جلد اپنے مکان کے صحن میں درس دینے والے ہوتے ہیں اس واسطے ہر طرف سے متعلمان درس بڑے اور چھوٹے بچے اور بوڑھے پیارا قرآن بغلوں میں دبائے حضرت کے مکان کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔تھوڑی دیر میں صحن مکان بھر جاتا ہے۔حضرت کے انتظار میں کوئی اپنی روزانہ منزل پڑھ رہا ہے۔کوئی کل کے پڑھے ہوئے کو دہرا رہا ہے۔کیا مبارک فجر ہے مومنوں کی۔تھوڑی دیر میں حضرت کی آمد اور قرآن خوانی سے ساری مجلس